افغان فورسز کے ہاتھوں پاکستانیوں کی شہادت ، وزیر خارجہ کو سیاست سوجھنے لگی
بلاول بھٹو زرداری چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی پریس کانفرنس پر طنزیہ ٹوئٹ کررہے تھے جبکہ چمن بارڈر پر افغان فورسز پاکستانی شہریوں کو مارٹر گولوں سے نشانہ بنارہی تھی۔
جس وقت افغان بارڈر سیکورٹی فورسز کی جانب سے پاکستان علاقے میں مارٹر گولے برسائے جارہے تھے عین اسی وقت وزیر خارنہ بلاول بھٹو زرداری چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے خطاب پر طنزیہ ٹوئٹ کررہے تھے ، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے وزیر خارجہ کو افغان حکام سے اس حملے کے اوپر مضبوط احتجاج کرنا چاہیے تھا وہ ٹوئٹ کررہے تھے۔
افغان بارڈر سیکورٹی فورسز کی جانب سے بلااشتعال چمن میں شہری آبادی کو نشانہ بنایا گیا ، افغان فورسز کی گولہ باری اور اندھا دھند فائرنگ سے 6 شہری شہید جبکہ 17 سے زائد زخمی ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیے
صحافی نے فیس بک منیٹائیزیشن سے متعلق بلاول بھٹو کے دعوے کو چیلنج کردیا
ترجمان دفتر خارجہ کی مذمت
دفتر خارجہ نے گذشتہ سہ پہر پیش آنے والے واقعے کی شدید مذمت کی ہے جس میں چمن میں شہری آبادی پر افغان بارڈر فورسز کی بلا اشتعال اور اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں 6 پاکستانی شہری جاں بحق اور 17 زخمی ہوگئے تھے۔
بلوچستان کے علاقے چمن میں پاک افغان بارڈر کے قریب افغان سیکیورٹی فورسز نے بلااشتعال پاکستانی شہریوں پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 6 شہری جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے۔
چمن میں آج ایک شخص میڈیا کو انٹرویو دے رہا تھا کہ اسی وقت طالبان کے طرف سے گول اگر گیا شہری آبادی پر ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے pic.twitter.com/qErAF4ULXS
— Bakhtiar khan Jattak (@MAJOR_AK_47) December 11, 2022
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ اس طرح کے افسوس ناک واقعات دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات کے حوصلہ افزاء نہیں۔ افغان حکام کو آگاہ کیا گیا ہے کہ مستقبل میں ایسے واقعات کی تکرار سے گریز کیا جائے اور ذمہ داروں کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ سرحد پر شہریوں کی حفاظت کرنا دونوں فریقوں کی ذمہ داری ہے۔ دونوں ممالک کے متعلقہ حکام اس بات کو یقینی بنانے کے لیے رابطے میں ہیں کہ صورتحال مزید خراب نہ ہو تاکہ آئندہ ایسے واقعات سے بچا جاسکے۔
آئی ایس پی آر کا بیان
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ افغان بارڈر فورسز کی جانب سے پاکستانی علاقے میں بلااشتعال فائرنگ کی گئی ، جس کے نتیجے میں 6 شہری شہید جبکہ 17 زخمی ہوگئے۔
چمن باڈر کی حالات خراب دی اللہ دی رحم وکی
😭😭😭👈👈 صاحبزادہ مولاناعزیزالله ذاکري pic.twitter.com/i3hmzD4w0b— Silver Rose (@SilverRise1) December 11, 2022
ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنے اعلامیے میں مزید کہا ہے کہ افغان بارڈر فورسز نے مارٹر گولے سمیت بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا۔
ترجمان آئی ایس پی آر پاکستان فورسز نے افغان بارڈر فورسز کی بلااشتعال فائرنگ کا بھرپور جواب دیا۔ تاہم پاک فوج کی جانب سے افغانستان کی شہری آبادی کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔
آئی ایس پی آر نے اپنے اعلامیے میں کہا ہے کہ پاکستان نے بارڈر کی سنگین صورتحال سے افغان حکام کو آگاہ کردیا ہے۔
جس وقت آئی ایس پی آر اور دفتر خارجہ کی جانب سے چمن واقعے پر افغانستانی حکام سے احتجاج کیا جارہا تھا عین اسی وقت وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے خطاب پر طنزیہ ٹوئٹ کررہے تھے۔
عمران خان پر طنزیہ ٹوئٹ کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے لکھا ہے کہ "سنا ہے گھڑی چور نے پریس کانفرنس کی۔ کیا اس نے کے پی اور پنجاب اسمبلیاں تحلیل کیں؟ ہرگز نہیں۔”
I heard ghari chor did a press conference. Did he dissolve KP & Punjab assemblies? Of course not. His efforts to turn institutions into his tiger force to do his unconstitutional bidding failed before and will fail again.
— BilawalBhuttoZardari (@BBhuttoZardari) December 11, 2022
انہوں نے مزید لکھا ہے کہ "اپنی غیرآئینی مطالبے کے لیے اداروں کو اپنی ٹائیگر فورس میں تبدیل کرنے کی ان کی کوششیں پہلے بھی ناکام ہوئیں اور دوبارہ بھی ناکام ہوں گی۔”
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کا معاملے کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے فوری طور پر افغان حکام سے رابطہ کرنا چاہیے تھا ، چمن میں افغان بارڈر فورسز کی جانب سے کی جانے والی بلااشتعال فائرنگ پر مضبوط احتجاج کرنا چاہیے تھا ، کیونکہ اس طرح کے واقعات دونوں ممالک کے تعلقات کے لیے حوصلہ افزاء نہیں ہیں۔
تجزیہ کاروں کا مزید کہنا ہے رواں ماہ 2 دسمبر کو افغانستان میں قائم پاکستانی سفارتخانے پر حملہ کیا گیا ، جس کے نتیجے میں ایک سیکورٹی گارڈر شدید زخمی ہوگیا تھا ، تاہم حملے میں ناظم الامور محفوظ رہے تھے ، اگر اس ہی پاکستان نے موثر انداز سے احتجاج کیا ہوتا تو گذشتہ روز پیش آنا واقعہ نہ ہوتا۔









