پنجاب، کے پی، جی بی اور آزاد کشمیر کے وزراء مالی وسائل کیلئے وفاق کے سامنے آ گئے
چاروں صوبائی حکومتوں کا کہنا ہے اگر وفاقی حکومت نے ان کے واجبات ادا نہ کیے تو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے۔
پنجاب، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر حکومتوں نے الزام لگایا ہے کہ وفاقی حکومت رواں مالی سال کے بجٹ میں مختص رقم انہیں ادا نہیں کررہا جس کے خلاف وہ پارلیمنٹ کے سامنے دھرنا دیں گے۔ چاروں حکومتوں کے رہنماؤں کا کہنا تھاکہ وفاق کے ذمے خیبرپختونخوا کے 189 ارب، پنجاب کے 167.4 ارب روپے، آزاد کشمیر حکومت کے 26 ارب روپے واجب الادا ہیں۔ گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان کا بجٹ 40 ارب سے کم کرکے 25 ارب کردیا گیا۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے اسلام آباد میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کے صوبے کو بہت سے معاشی مسائل درپیش ہے وفاق کی توجہ دلانے کے باوجود یہ مسئلہ حل نہیں کیا جا رہا۔
یہ بھی پڑھیے
میری اسمبلی سے نکلنے کی تیاری دسمبر میں ہو جائے گی، عمران خان
شہباز شریف کی ہدایت پر مسلم لیگ (ن) کا ملک گیر ورکرز کنونشنز منعقد کرنے کا اعلان
ان کا کہنا تھاکہ آج وزیراعلیٰ کی حیثیت سے کھل کر اپنی عوام کی آواز بلند کررہا ہوں۔ وفاق سے کہہ رہے ہیں ہمیں ہمارا فنڈ دے دیں۔ یہ ہمارا حق ہے ہم آپ سے بھیک نہیں مانگ رہے ہیں۔ ایکس فاٹا کا فنڈ ابھی تک ہمیں نہیں مل سکا۔ ہمیں فنڈ نہیں مل رہے تو ہم خاک ترقیاتی کام کرینگے؟ یہ کہتے ہیں خیبرپختونخوا کے پاس تنخواہوں کے پیسے نہیں ہیں تو ہمارے پاس پیسے کہاں سے آئیں گے جب یہ دے ہی نہیں رہے۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کا کہنا تھا کہ رواں برس عمران خان کی ہدایت پر خیبرپختونخوا کو 1.3 ٹریلین کا بجٹ دیا گیا مگر بدقسمتی سے وہ پیسے ہمیں نہ مل سکے۔ وفاقی حکومت کوشش کررہی ہے کہ ہمیں دیوار سے لگادے۔
محمود خان نے کہا کہ کہ وفاق سے حصہ نہ ملنے کے سبب صوبے کو بہت سے مالی مسائل درپیش ہیں جس کے سبب ترقیاتی منصوبوں کو بھی بہت نقصان پہنچا ہے۔ این ایچ پی کے 61 ارب روپے وفاق کی جانب بقایا ہیں۔ وفاق نے ہمارے 189 ارب روپے مجموعی طور پر ادا کرنے ہیں۔
انہوں نے سوال کیا کہ کیا خیبر پختونخوا پاکستان کا حصہ نہیں؟ اگر ہمارا حق نہیں دیا تو قومی اسمبلی کے باہر دھرنا دیں گے۔
وزیر خزانہ پنجاب محسن لغاری نے کہا کہ 167.4 ارب روپے پنجاب کے ہیں، جو وفاق نہیں دے رہا۔ اعلانات ہوتے رہے لیکن سیلابی صورتحال میں پنجاب میں ایک روپیہ بھی نہیں دیا گیا۔ عمران خان کے ٹیلی تھون کے ذریعے 14 ارب روپے دے گئی۔
وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشیدنے کہا کہ چھ ماہ گزرنے کے باوجود اے ڈی پی کے 2 ارب 80 کروڑ روپے دیے گئے ہیں۔ ہم ہر سال قدرتی آفت کا سامنا کررہے ہیں۔ 2 ارب میں ہم کیسے صوبہ چلائیں۔ اسکردو شہر میں 21 سے 22 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہے۔ اس سال ہمارے پاس پیسے نہیں کہ ڈی جی سیٹ چلائیں۔ ہم نے ریونیو اتھارٹی بنائی، انہوں نے مخالفت کردی۔ ہم بجلی اور گندم کہاں سے پوری کریں گے؟۔
ان کا کہنا تھاکہ گلگت بلتستان کا بلاک ایلوکیشن 18 ارب کا تھا۔ ہماری حکومت کا پورٹ فولیو 48 ارب تک گیا۔ گلگت بلتستان کا بجٹ 40 ارب سے 25 ارب کردیا گیا ہے۔ تاریخ میں ایسی دشمنی اس خطے کیساتھ نہیں ہوئی۔
وزیر خزانہ آزاد کشمیر عبدالماجد خان نے کہا کہ وفاقی حکومت نالہ لئی کے لیے 70 ارب دے سکتی ہے مگر رياست کشمیر کے لیے 26 ارب حکومت کے پاس نہیں۔ پی ٹی آئی کی حکومت کى وجہ سے آزاد کشمیر میں بلدياتى انتخابات ہوئے۔ وفاقى حکومت سے پوليس کى اپيل کى، وہ بھی نہیں دى گئى۔ 30 سال بعد پرامن بلدياتى انتخابات کا کريڈيٹ پى ٹى آئى کى حکومت کو جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھاکہ عمران خان کی حکومت میں 6 ہزار ارب ایف بی آر نے اکھٹا کیا۔ انہوں نے ہمارا شیئر ہر صورت میں دینا ہی دینا ہے۔ انہوں نے آتے ہی سب سے پہلے کشمیر کو نشانہ بنایا۔









