بانی اور مفکر پاکستان کے بعد پہلی خاتون وزیراعظم بھی آرٹ گردی کا شکار ہوگئیں

سابق وزیراعظم پاکستان بے نظیر بھٹو کا مجسمہ کوئٹہ میں نصب کیا گیا تو عوام نے اسے نہ صرف آرٹ بلکہ بے نظیر کی بھی توہین قرار دیا اور کڑی تنقید کا نشانہ بنایا، صارفین نے کہا کہ جیسی پیپلزپارٹی حکومت کی کارگردگی ہے ایسا ہی مجسمہ اپنی قائد کا بنایا گیا ہے، بے نظیر سے قبل  بانی پاکستان اور مفکر پاکستان کے مجسموں کو  بدترین شکلوں میں ڈھال کر دونوں رہنماؤں کی بے حرمتی کی گئی تھی

پاکستان پیپلزپارٹی کی مقتول سربراہ سابق وزیراعظم پاکستان بے نظیر بھٹو کا مجسمہ کوئٹہ میں نصب کیا گیا تو عوام نے اسے نہ صرف آرٹ بلکہ  بے نظیر کی بھی توہین قرار دیا اور کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ۔

بلوچستان کے داراحکومت کوئٹہ میں پیپلزپارٹی کی شہید چیئرمین بے نظر بھٹو کا کوئٹہ میں نصب کیا جانے والا مجسمہ کڑی تنقید کی زد میں آگیا۔عوام نے مجسمے کی بناوٹ کو نہ صرف آرٹ بلکہ سابق وزیراعظم کی توہین بھی قرار دیا ۔

یہ بھی پڑھیے

اقبال پارک میں نصب شاعر مشرق کے مجسمے کی حقیقت

کوئٹہ میں بے نظیربھٹو کے بدترین بناوٹ والے مجسمے کو نصب کرنے سے پہلے پاکستانی آرٹسوں نے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح اور مفکر پاکستان علامہ محمد اقبال کے مجسموں کی بھی خوب دل کھول کر درگت بنائی تھی ۔

 

 

فلم ساز و ہدایت کارعلی سجاد شاہ نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں طنزیہ لہجے میں  کہا کہ یہ تینوں مجسمے تجریدی آرٹ کا شاہکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کا مجسمہ سندھ میں پیپلزپارٹی کی گڈ گورننس کی تصویر پیش کررہا ہے۔

 

علی سجاد شاہ نے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کا مجسمہ ان کے نام کو عشروں سے بیچتی خون آشام اشرافیہ کی تمثیل قرار دیا جبکہ علامہ اقبال کا مجسمہ مطالعہ پاکستان میں ان کی درگت بنتی کی تفسیر کہہ ڈالا ۔

صحافی وینگاس نے مجسمے کی تصویر کو شیئرکرتے ہوئے لکھا کہ ’پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے نام پر حکمرانی کرتی ہے اور انہیں خیال ہی نہیں کہ یہ کیا چیز نصب کی گئی ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی بلوچستان کے مقامی رہنما حیات خان اچکزئی نے اپنی ٹوئٹ سے ذریعے اطلاع دی کہ ایڈمنسٹریٹرکوئٹہ جبار بلوچ سے رابطہ کرکے فوری طور پر شہید بی بی کے توہین آمیز مجسمے کو ہٹانے کی ہدایت دی ہیں۔

 

حیات خان اچکزئی نے کہا کہ ایڈمنسٹریٹرکوئٹہ جبار بلوچ نے 2 مرتبہ وزیر اعظم پاکستان کے عہدے پر فائز رہنے والی شہید بے نظیر بھٹو کے توہین آمیز مجسمے کو تبدیل کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے ۔

سماجی کارکن فاطمہ عاطف نے کہا کہ  کوئٹہ کے پارک میں نصب کیے جانے والے بدترین آرٹ کے مجسمہ  نہ صرف بے نظیر بھٹو بلکہ ملک کی تمام تر خواتین کی توہین و بے حرمتی  ہے ۔

فاطمہ عاطف نے کہا کہ بے نظیر بھٹو عزت و خراج تحسین کی مستحق ہیں۔ انہوں نے بے نظیر بھٹو سے منسوب مجسمے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ محکمے کو اس طرح کی گندگی کا جوابدہ بنائیں۔

پیپلزپارٹی کی مقتول چیئرمین سابق وزیراعظم  بے نظیر بھٹو سے قبل بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح اور مفکر پاکستان ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کے بد ترین انداز میں بنائے گئے مجسمے تنقید کی زد میں رہے ۔

بے نظیر بھٹو کے کوئٹہ میں مجسمے کی تنصیب سے قبل لاہور کے بحریہ ٹاؤن میں بھی بانی پاکستان محمد علی جناح  کا مجسمہ نصب کیا گیا تو ایسا لگا کہ یہ بابائے قوم نہیں بلکہ ڈریکولہ فلم کا خون آشام  ولن ہے ۔

بحریہ ٹاؤن لاہورنصب قائداعظم کے مجسمے کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے ہی صارفین نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔ سوشل میڈیا صارفین نے کہا آرٹسٹ نے مجسمہ میں گربڑ کردی ہے ۔

قائداعظم کے مجسمے پر صارفین و عوام نے سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آرٹسٹ نے قائد کو بری شکل  میں ڈھال کر ویمپائر بنا ڈالا ہے۔ حکام جلد از جلد اس مجسمے کو ہٹائیں ۔

گزشتہ سال مفکر پاکستان ڈاکٹر محمد اقبال کا مجسمہ لاہور کے اقبال پار میں نصب کیا گیا تو وہ بھی اپنی بناوٹ کی وجہ سے مسلسل تنقید کا نشانہ بنتا رہا اور انتظامیہ نے بعد میں اسے پارک سے ہٹا دیا تھا ۔

لاہور کے گلشن اقبال پارک میں نصب کیے جانے والا  شاعرِ مشرق علامہ اقبال کا مجسمہ سوشل میڈیا پر مذاق کا نشانہ بنتا رہا تاہم بعد میں انتظامیہ کا کہنا تھا کہ یہ حکومت نے نہیں بلکہ مالیوں نے ازخود بنایا ہے ۔

متعلقہ تحاریر