واشنگٹن میں پاکستان کی سفارتی جائیداد فروخت کیلئے تیار، بلاول بھٹو دورہ امریکہ میں مصروف

امریکا میں مقیم پاکستانی سفارتخانے کے حکام کا کہنا ہے سفارتخانے کی عمارت کو فروخت کرنے کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔

پاکستان نے امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں موجود اپنی سفارتی عمارت کو بیچنے کا فیصلہ کرلیا ہے جوکہ ایک شاندار محل وقوع پر واقع ہے ، تاہم حکام کا اصرار ہے کہ نہ تو نئے اور نہ ہی پرانے سفارت خانے کو فروخت کیا جارہا ہے۔ یہ خبر ایسے موقع پر سامنے آئی ہےجب وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری ایک ہفتے کے طویل دورے پر امریکا میں ہیں۔

ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق اس عمارت میں 1950 کی دہائی کے وسط سے 2000 کی دہائی کے اوائل تک سفارت خانے کا دفاعی حصہ تھا۔

پاکستانی سفارت خانے کے ایک اہلکار نے ڈان کو اس بات کی تصدیق کی کہ "یہ عمارت کو مارکیٹ میں سیل کے لیے لگا دیا گیا ہے۔”

یہ بھی پڑھیے

20 دسمبر کو جلسے میں اسمبلیاں تحلیل کرنے کا اعلان کردیں گے، عمران خان

ریکوڈک سے متعلق سینیٹ سے بل پاس کروا کر جمہوری روایات کو روندھا گیا، سینیٹر میر طاہر بزنجو

ڈان نیوز کے مطابق اہلکار نے بتایا ہے کہ "ہم فروخت کے لیے مناسب طریقہ کار پر عمل کر رہے ہیں۔ سفارت خانے نے اخبارات میں مجوزہ فروخت کا اشتہار دیا اور اسے کئی بولیاں بھی موصول ہوئی ہیں ، تاہم ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔”

اہلکار نے ڈان نیوز کو بتایا ہے کہ "سفارتخانے نے ماہر تعمیرات سے مشاورت کی ہے تاکہ اس بات کا اندازہ لگایا جا سکے کہ ان کے لیے کیا بہتر ہے: عمارت کو ویسا ہی بیچنا چاہیے ، یا تزئین و آرائش کے بعد سیل کیا جائے۔”

سفارت خانے کے اہلکار نے ڈان نیوز کو مزید بتایا ہے کہ "ہمیں کوئی جلدی نہیں ہے، اور ہم کوئی ایسا معاہدہ نہیں کریں گے جس سے پاکستان کو فائدے کی بجائے نقصان ہو۔”

ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق "حکام نے اس بات کی تردید کی ہے کہ سفارت خانہ اپنے عملے کو تنخواہ دینے سے قاصر ہے۔

ڈان نیوز کی خبر کے مطابق "سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی پوسٹس میں دو عمارتیں دکھائی دیتی ہیں۔ دونوں تصاویر موجودہ اور پرانے سفارت خانے کی ہیں۔ تاہم سفارت خانے نے کہا کہ ان دونوں عمارتوں میں سے کوئی بھی فروخت کے لیے نہیں ہے۔”

واضح رہے کہ موجودہ سفارت خانہ 2000 کی دہائی کے اوائل میں تعمیر کیا گیا تھا ، جبکہ پرانا سفارت خانہ قصبے کے قلب میں ، میساچوسٹس ایونیو کے قریب جہاں ہندوستانی سفارت خانے کی عمارت بھی موجود ہے۔

ڈان نیوز کے مطابق "اگرچہ کسی نے بھی نئے سفارت خانے کو فروخت کرنے کی بات نہیں کی ہے ، لیکن کچھ عرصے سے پرانے سفارت خانے اور آر اسٹریٹ کی عمارت کی ممکنہ فروخت کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔”

ایک رپورٹ کے مطابق پاکستانی سفارت خانے نے پرانی عمارت اور سفیر کی قریبی سرکاری رہائش گاہ کی تزئین و آرائش پر تقریباً سات ملین ڈالر خرچ کیے ہیں۔

تزئین و آرائش پر خرچ ہونے والی رقم نے بہت سے لوگوں کو حیران کر دیا ہے، کچھ اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ تحقیقات کا مطالبہ کررہے ہیں کہ اس پر اتنا خرچہ کیوں آیا ہے۔

آر اسٹریٹ پر موجود عمارت کی کبھی تزئین و آرائش نہیں کی گئی تھی ، تاہم علاقے کے دیگر رہائشیوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ انہوں نے مقامی حکام سے عمارت کی خستہ حالی کی شکایت کی تھی ، اور اسے مقامی رہائشیوں کے لیے خطرناک قرار دیا تھا۔ رہائشی چاہتے ہیں کہ عمارت کی تزئین و آرائش کی جائے یا زمین بوس کر دی جائے۔

آر سٹریٹ کی عمارت کو سفیر سید امجد علی نے 1953 سے 1956 کے درمیان خریدی تھی۔ امریکا میں پہلے سفارت خانے کی عمارت کو پاکستان کے پہلے سفیر ایم اے ایچ اصفہانی نے خریدا تھا۔ دونوں عمارتیں تقریباً 20 سال سے خالی پڑی ہیں۔

ایک سابق پاکستانی سفیر نے ڈان نیوز کو بتایا ہے کہ دو سفیر جلیل عباس جیلانی اور شیری رحمان اس سے قبل سفارت خانے کی پرانی عمارت کو فروخت کرنے کے قریب پہنچ چکے تھے لیکن میڈیا میں ہنگامہ آرائی کے بعد حکومت اپنے فیصلے سے پیچھے ہٹ گئی تھی۔

متعلقہ تحاریر