وفاقی حکومت توانائی بچت منصوبہ کامیابی سے نافذ کرپائے گی ؟

وفاقی حکومت نے جدید طریقے سے توانائی کے حصول کے بجائے روایتی منصوبہ پیش کیا جس کی کامیابی کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں ، حکومتی منصوبے کو تاجر برادری سے سختی سے مسترد کیا ہے جبکہ تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ صرف بندش کے احکامات کا نفاذ توانائی سے متعلق مسائل کا حل نہیں بلکہ عوام کو متبادل فراہم کرنے پڑے گا 

وفاقی حکومت نے منگل کو اپنے توانائی کے تحفظ کے منصوبے کا علان کیا تاہم تاجروں کی جانب سے اسے مسترد کیا گیا جس سے حکومتی منصوبے کو بڑا دھچکا لگا  ہے ۔

وفاقی حکومت نے توانائی بحران سے نمٹنے کے لیے اپنا منصوبہ پیش کیا تاہم ملک بھر کے تاجروں نے اسے سختی سے مسترد کرتے ہوئے کاروباری مراکز  کی جلد بند سے انکار کیا ہے ۔

یہ بھی پڑھیے

قابل تجدید اور شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرکے درآمدی بل کم کریں گے، وزیراعظم

توانائی کے تحفظ کے ناقص منصوبے نے بہت سے سوالات کو جنم دیا کیونکہ پالیسی ساز اقتصادی اور توانائی کے بحرانوں کے درمیان حقیقی مسائل اور ان کے حل کی نشاندہی کرنے میں ناکام رہے۔

وفاقی حکومت نے اپنے روایتی اور قدامت پسندانہ انداز کو ظاہر کرتے ہوئے متبادل ذرائع یا قابل تجدید توانائی سے توانائی حاصل کرنے کے منصوبوں کو تیز کرنے کے بجائےتوانائی کے تحفظ کے منصوبہ پیش کیا ۔

وفاقی کابینہ نے منگل کو قومی توانائی کے تحفظ کے منصوبے کی منظوری دے دی، جس میں قومی وسائل کے منصفانہ استعمال کو یقینی بنانے کے لیے بعض اقدامات متعارف کرائے گئے ہیں۔

توانائی بچت منصوبے کے تحت مارکیٹوں اور ریستورانوں اور شادی ہالز کی جلد بندش اور تمام سرکاری دفاتر میں الیکٹرک آلات کے غیر ضروری استعمال کو روکنا شامل ہے۔

وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت ہونے والے اجلاس میں کابینہ نے پاور ڈویژن کی ایڈوائس پر فوری طور پر ملک بھر میں توانائی کے تحفظ کے منصوبے پر عملدرآمد کا فیصلہ کیا۔

یہ بھی پڑھیے

وفاقی کابینہ اجلاس میں قومی توانائی بچت پلان منظوری کیلئے پیش کردیا گیا

حکومت کو امید ہے کہ یہ منصوبہ سینکڑوں ارب روپے کی بچت کو یقینی بنائے گا۔ توانائی کے تحفظ کے منصوبے کے مطابق کاروباری مراکز ساڑھے 8 بجے جبکہ شادی ہال رات 10 بجے تک بند ہو جائیں گے۔

حکومت مارکیٹوں کی جلد بندش کے ذریعےسالانہ تقریباً 62 ارب روپے کی بچت کرنا چاہتی ہے جبکہ حکومت نے بجلی کے ناکارہ پنکھوں پر اضافی ڈیوٹی لگانے کا بھی منصوبہ بنایا ہے ۔

یکم جولائی سے بجلی کے ناکارہ پنکھوں کی پیداوار بند کردی جائے گی اور ان پر اضافی ڈیوٹی عائد کی جائے گی جس سے 15 ارب روپے جبکہ جدید بلب کے استعمال سے 22 ارب روپے کی بچت ہوگی۔

وفاقی حکومت کے تمام ملکی اداروں میں بجلی کی کھپت میں 30 فیصد کمی، اسٹریٹ لائٹس کا 50 فیصد  اور الیکٹرونک موٹر سائیکلز اور گھر سے کام کرنے کی پالیسی وضع  کی ہے ۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کا توانائی  بچت منصوبہ ناکام ہوسکتا ہے کیونکہ کراچی کے شاپنگ مالز رات گئے تک کھلے رہتے ہیں تاہم ہولسیل مارکیٹس جلد بند ہو جاتی ہیں۔

انہوں نے سوال کیا کہ وفاقی حکومت نے قدامت پسندانہ نقطہ نظر کے بجائے شمسی توانائی کے منصوبوں کی جلد تکمیل سمیت قابل تجدید توانائی کے منصوبوں کو تیز کرنے کے بارے میں کیوں نہیں سوچا۔

یہ بھی پڑھیے

سندھ کے تاجروں کا حکومت کو توانائی کی بچت کیلئے انوکھا مشورہ

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے ابھی تک صرف سرکاری عمارتوں کے لیے سولرائزیشن کی حکمت عملی کی نقاب کشائی کی ہے جو اس سال اپریل تک مکمل ہو جائے گی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ صرف بندش کے احکامات کا نفاذ توانائی سے متعلق تمام مسائل کا حل نہیں بلکہ عوام کو متبادل فراہم کرنے پڑے گا ۔

متعلقہ تحاریر