ٰخیبر پختونخوا کے علماء کا دہشتگردوں اور دہشتگرد کارروائیوں کے خلاف فتویٰ

فتویٰ مختلف مکاتب فکر کے 16 جید علمائے کرام کے دستخط سے جاری کیا گیا ہے۔

خیبر پختونخوا کے علمائے کرام نے دہشتگردوں اور دہشتگردانہ کارروائیوں کے خلاف مشترکہ طور فتویٰ جاری کیا ہے۔ فتوے کے مطابق جہاد کا اعلان صرف اسلامی ریاست کا سربراہ کرسکتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق مختلف مکاتب فکر کے علمائے کرام نے دہشت گردی کے خلاف واضح اعلان کردیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے 16.3 ارب ڈالر کی اشد ضرورت ہے، وزیراعظم

آرمی چیف کا دورہ سعودی عرب: پاکستان کو مالی امداد ملے گی یا نہیں ، کچھ پتا نہیں

دارالعلوم سرحد پشاور، جامعہ دارالعلوم حقانیہ، تنظیم المدارس، وفاق المدارس العربیہ، ربط المدارس، وفاق المدارس اسلفیہ، وفاق المدارس الشیعہ، جامع تعلیم القران، علما ء کونسل خیبر پختو نخوا نے دہشت گرد کارروائیوں کو مسترد کردیا ہے۔

دہشتگردی کے خلاف علما کا فتویٰ

فتویٰ کے مطابق جہاد کا اعلان اسلامی ریاست کا سربراہ کر سکتا ہے ہر شخص کو جہاد کے اعلا ن کا حق نہیں. قانون کی پاسداری سے گریز کرنا شرعاً ناجائز ہے.

علماء کے مطابق اسلامی ریاست کے دفاع کرنے والوں  پولیس اور فوجی اہلکاروں کے خلاف ہتھیار اُٹھانا اور اعلانِ جنگ کرنا شرعاً ناجائز اور حرام اور ریاست کی اطاعت کی خلاف ورزی ہے۔

فتوے میں واضح کردیا گیا ہے کہ فوجی جوان اور پولیس اہلکار پاکستان کی حفاظت کرتے ہوئے اگر مارے جائیں تو شہید ہیں۔ فتویٰ 16 جید علمائے کرام کے دستخط سے جاری کیا گیا ہے۔

متعلقہ تحاریر