توہین الیکشن کمیشن کیس: عمران خان ، اسد عمر اور فواد چوہدری کے وارنٹ گرفتاری جاری

الیکشن کمیشن کے 4 رکنی بینچ نے چیرمین تحریک انصاف ، اسد عمر اور فواد چوہدری کی جانب سے توہین الیکشن کمیشن کیس میں حاضری سے استثنیٰ کی درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے دلائل مکمل ہونے پر محفوظ کیا گیا فیصلہ سنا دیا۔

الیکشن کمیشن نے چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان ، رہنما پی ٹی آئی اسد عمر اور فواد چوہدری کی توہین الیکشن کمیشن کیس میں حاضری سے استثنیٰ کی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے تینوں رہنماؤں کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے۔

الیکشن کمیشن کے 4 رکنی بینچ نے چیرمین تحریک انصاف عمران خان ، اسد عمر اور فواد چوہدری کی جانب سے توہین الیکشن کمیشن کیس میں حاضری سے استثنیٰ کی درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے دلائل مکمل ہونے پر محفوظ کیا گیا فیصلہ سنا دیا۔

یہ بھی پڑھیے

آئی ایم ایف کے مطالبات اسحاق ڈار کے لیے انتہائی کڑوی گولی بن گئے

ٹیکنوکریٹ نہیں صرف پی ٹی آئی کی حکومت ملک کو بحران سے نکال سکتی ہے، عمران خان

الیکشن کمیشن نے عمران خان، اسد عمر اور فواد چودھری کی درخواست مسترد کرتے ہوئے تینوں رہنماؤں کے قابل ضمانت وارنٹ بھی جاری کر دیئے۔

الیکشن کمیشن کا گزشتہ سماعت پر کہنا تھا کہ توہین الیکشن کمیشن کیس میں عمران خان اگلی سماعت پر پیش نہ ہوئے تو ان کے وارنٹ جاری کردیں گے۔

الیکشن کمیشن میں گزشتہ سماعت پر چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان ، اسد عمر اور فواد چوہدری میں سے کوئی پیش نہیں ہوا تھا۔

اس موقع پر تحریک انصاف کے وکیل علی بخاری نے کمیشن کو بتایا تھا کہ عمران خان کی صحت اجازت نہیں دیتی کہ وہ سماعت میں پیش ہو سکیں، جب کہ فوادچوہدری کی والدہ شدید علیل اور اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ وکیل نے بتایا تھا کہ اسد عمر کی فلائٹ لیٹ ہوگئی جس کی وجہ سے پیش نہیں ہوسکے۔

وکیل نے استدعا کی تھی کہ عمران خان اور فواد چوہدری کو حاضری سے استثنیٰ دیا جائے ، جس پر ممبر نثار درانی نے کہا تھا کہ 4 ماہ ہوگئے ہیں وہ الیکشن کمیشن میں پیش نہیں ہورہے۔

ممبر نثار درانی کا کہنا تھا کہ آپ عمران خان کا میڈیکل سرٹیفکیٹ الیکشن کمیشن میں جمع کرائیں ، آپ شوکاز نوٹس کا جواب جمع کرائیں۔ آئندہ پیش نہ ہونے پر وارنٹ جاری کردیں گے۔

سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو عمران خان کے خلاف توہین الیکشن کمیشن کی کارروائی جاری رکھنے کی اجازت دی تھی۔

عدالت عظمیٰ نے کہا تھا کہ سندھ اور لاہور ہائی کورٹس نے صرف حتمی فیصلہ جاری کرنے سے روکا ہے ، الیکشن ایکٹ کمیشن کو کارروائی کیلئے بااختیار بناتا ہے۔

سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہا تھا کہ الیکشن کمیشن پاکستان تحریک انصاف کے اعتراضات پر بھی قانون کے مطابق فیصلہ کرے۔

سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا تھا کہ کسی ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو کارروائی سے نہیں روکا۔

متعلقہ تحاریر