نگراں وزیراعلیٰ کے امیدوار محسن نقوی کا رضاکارانہ پلی بارگین کا کیس سامنے آگیا

سپریم کورٹ اور نیب کے دستاویزی ثبوت سامنے کے بعد پی ٹی آئی کی قیادت نے محسن نقوی پر شدید تحفظات کا اظہار کئی سوالات اٹھا دیئے ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی جانب سے پنجاب کے نگراں وزیراعلیٰ کے لیے نامزد امیدوار سینئر صحافی محسن نقوی کا رضاکارانہ پلی بارگین کا کیس سامنے آگیا ہے ، جس کے دستاویزی ثبوت بھی منظرعام پر آگئے ہیں ، اس انکشاف کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی قیادت نے ان پر مزید تحفظات کا اظہار کردیا ہے۔

سینئر صحافی محسن نقوی کا نیب میں مبینہ رقم رضا کارانہ طور پر واپس کرنے کا کیس سامنے آ گیا ، جس کے بعد پی ٹی آئی نے ان پر ایک اور اعتراض اٹھا دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

تین لوگوں نے مذہب کے نام پر مجھے سلمان تاثیر کی طرح قتل کرانے کی سازش کی، عمران خان

عالم کو ڈیزل کہنے والوں کو تجدید ایمان و نکاح کرلینا چاہیے، پشاور کے علما کافتویٰ

نگراں وزیراعلیٰ کے امیدوار محسن نقوی ، حارث اسٹیل کیس میں 35 لاکھ روپے نیب کو واپس کر چکے ہیں، والنٹری ریٹرن کیس کی دستاویزات بھی سامنے آ گئی ہیں۔

Plea Bargain Evidence

Plea Bargain Evidence

Plea Bargain Evidence

Plea Bargain Evidence

دستاویزات کے مطابق محسن نقوی نے رقم شیخ محمد افضل نامی شخص سے 35 لاکھ روپے لینے کا اعتراف کیا۔

محسن نقوی نے 2010 میں ڈیمانڈ ڈرافٹ کے ذریعے رقم نیب کو واپس دینے کیلئے خط لکھا۔

محسن نقوی کے رضاکارانہ پلی بارگین کے ثبوت سامنے پر ردعمل دیتے ہوئے تحریک  انصاف کے سینئر رہنما اور سابق ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری نے ٹوئٹر پر پیغام شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ” آئین کے آرٹیکل (3)218 کے مطابق کسی ایسے شخص کو نگران نہیں نامزد کیا جا سکتا کہ جس کی قیادت میں صاف اور شفاف انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں ہو، پی ڈی ایم محسن نقوی جیسے جانبدار اور متنازع شخص کو وزیر اعلیٰ بنانا چاہتی ہے تاکہ عام انتخابات میں دھاندلی کی جا سکے۔”

محسن نقوی کی نیب دستاویز سامنے آنے پر عمران خان کے فوکل پرسن برائے سوشل میڈیا آپریشنز اظہر مشوانی نے ٹوئٹر پر مختصر پیغام شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ "ن لیگ کا فرمائشی امیدوار بھی سرٹیفائیڈ چور نکلا۔”

رہنما تحریک انصاف عندلیب عباس نے لکھا ہے کہ "اعتراف کرپشن، یہ ہے پی ایم ایل این کے نگراں وزیراعلیٰ کے امیدوار محسن نقوی کی حیثیت، پلی بارگین میں نام سامنے آگیا، الیکشن کمیشن میں ذرا سی اخلاقی جرات ہوگی تو اس نام کا تو سوچیں گے بھی نہیں، اس کو ملک محمد خان شفاف ترین کہہ رہے تھے، کوئی شرم؟۔”

متعلقہ تحاریر