تحریک انصاف کے44 اراکین قومی اسمبلی نے استعفوں کی واپسی کیلئے اسپیکر کو لکھ دیا

رہنما تحریک انصاف اسد عمر اور فواد چوہدری نے ٹوئٹر پر پیغام شیئر کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے 44 اراکین کے استعفے واپس لینے کے لیے اسپیکر قومی اسمبلی کو ای میل کردی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف نے 44 ارکان قومی اسمبلی کے استعفے واپس لینے کا فیصلہ کرلیا۔ رہنما تحریک انصاف اسد عمر نے کہا ہے کہ اگلا قدم اپوزیشن لیڈر کی نامزدگی ہو گی جب کہ قومی اسمبلی سے استعفوں کی واپسی کے لئے اسپیکر راجہ پرویز اشرف کی رہائش گاہ جانے والے پی ٹی آئی کے اراکین قومی اسمبلی کو منسٹر انکلیو کے باہر روک دیا گیا، جس پر ممبران نے احتجاج وہیں دھرنا دے دیا۔

پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل اسد عمر نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’اسپیکر ابھی تک تمام اسمبلی ارکان کےاستعفے منظور نہیں کررہے، اس لئے پارٹی چیئرمین کی ہدایات پر 44 ارکان اسمبلی نے استعفے واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے اور اس بارے میں آگاہ کرنے کے لئے اسپیکر قومی اسمبلی کو ای میل کردیا ہے۔’

یہ بھی پڑھیے

نگراں وزیراعلیٰ پنجاب کا تقرر،سپریم کورٹ، میڈیا اور خود محسن نقوی کیلیے چیلنج

ٹنڈو الہٰیار میں غربت ومہنگائی کے ستائے والدین کی خودکشی ،5 بچے یتیم ہوگئے

اسد عمر کی جانب سے ٹوئیٹ میں ان 44 ارکان کے ناموں کی فہرست بھی دی گئی ہے جن کے استعفے واپس لئے جارہے ہیں۔ اسد عمر نے کہا ہے کہ استعفوں کی واپسی کے بعد ان کی جماعت کا اگلا قدم اپوزیشن لیڈر کی نامزدگی ہوگی۔

سابق وفاقی وزیر اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے ٹوئیٹ میں کہا کہ 45 ممبران اسمبلی نے اسپیکر قومی اسمبلی سے لیڈر آف اپوزیشن اور پارلیمانی پارٹی کے عہدے تحریک انصاف کو دینے کے لئے استعفیٰ واپس لے لئے ہیں۔

فواد چوہدری نے ٹوئیٹ میں کہا کہ اس اقدام کا مقصد جعلی اپوزیشن لیڈر سے جان چھڑانا اور اعتماد کے ووٹ میں لوٹوں کو شہباز شریف کو ووٹ دینے سے روکنا ہے۔

اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے چند روز قبل پی ٹی آئی کے مزید 35 ارکان کے استعفے منظور کیے جانے کے بعد سے مستعفی ارکان کی کل تعداد 79 ہوگئی تھی۔

پی ٹی ارکان نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو میں  کہا تھا کہ ہم اجلاس میں شرکت کیلئے آئے تو اسپیکر نے اجلاس مؤخر کردیا۔

پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے 44 اراکین کے استعفے واپس لینے کے اعلان کے ارکان پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے جہاں انہیں بتایا گیا کہ اسپیکر راجہ پرویز اشرف پارلیمنٹ میں موجود نہیں ہے۔ جس پر ان اراکین قومی اسمبلی نے مشترکہ طور پر اسپیکر کی رہائش گاہ جانے کے اعلان کیا جس پر پولیس کی بھاری نفری منسٹرز انکلیو کے باہر تعینات کردی گئی۔ جب پاکستان تحریک انصاف کے استعفے واپس لینے والے ارکان اسلام آباد میں منسٹرز انکلیو کے باہر پہنچے تو  قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکاروں نے انہیں اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کی سرکاری رہائش گاہ جانے سے روک دیا۔ جس پر ان ممبران نے وہیں احتجاجی دھرنا دے دیا اور نعرے لگائے۔ پاکستان تحریک انصاف کے اراکین کا کہنا تھا کہ وہ اسپیکر سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ انہیں بتائیں کہ وہ مستعفیٰ نہیں ہو رہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما عامر ڈوگر کا میڈیا سے گفتگو میں کہنا تھا کہ 44 اراکین کے استعفے واپس لینے سے متعلق اسپیکر قومی اسمبلی کو ای میل اور دیگر ذرائع سے آگاہ کر دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک الیکشن کی طرف جا رہا ہے۔ جس کے لیے ضروری ہے کہ اتفاق رائے سے قائد ایوان بنایا جائے۔

اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے 20 جنوری کو پاکستان تحریک انصاف کے مزید 35 ارکان کے استعفے منظور کیے تھے جب کہ 17 جنوری کو بھی اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے پاکستان تحریک انصاف کے 34 اراکین قومی اسمبلی اور سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کے استعفے منظور کیے تھے۔ اس کے علاوہ اسپیکر قومی اسمبلی نے جولائی 2022ء میں بھی پی ٹی آئی کے 11 اراکین قومی اسمبلی کے استعفے منظور کیے تھے، اب تک مجموعی طور پاکستان تحریک انصاف کے 79 اور شیخ رشید کے ایک استعفیٰ سمیت 80 اراکین قومی اسمبلی کے استعفے منظور ہو چکے ہیں۔

متعلقہ تحاریر