اسد عمر ، علی نواز اعوان اور راجہ خرم نواز کے استعفوں کا نوٹی فیکیشن معطل

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے تینوں رہنماؤں کی درخواستوں کو منظور کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو ان حلقوں میں ضمنی انتخابات کرانے سے بھی روک دیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں اسد عمر ، علی نواز اعوان اور راجہ خرم نواز کے استعفوں کے نوٹی فیکیشن کو معطل کردیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں رہنما تحریک انصاف اسد عمر ، علی نواز اعوان اور راجہ خرم نواز کی جانب ان کے استعفوں کے نوٹی فکیشن کو معطل کرنے کی درخواست دائر کی گئی تھی ، جس پر آج عدالت میں سماعت ہوئی۔

یہ بھی پڑھیے

توشہ خانہ کیس میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی درخواست ضمانت منظور

ممنوعہ فنڈنگ کیس میں پی ٹی آئی سربراہ عمران خان کی عبوری ضمانت منظور

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے تینوں رہنماؤں کی درخواستوں کو منظور کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو ان حلقوں میں ضمنی انتخابات کرانے سے بھی روک دیا ہے۔

چیف جسٹس اسلام ہائی کورٹ عامر فاروق نے فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا ہے۔

اسد عمر ، علی نواز اعوان اور راجہ خرم اعوان کی جانب سے بیرسٹر علی ظفر عدالت میں پیش ہوئے۔ انہوں نے عدالت میں موقف اپنایا گیا کہ میرے موکلین اسمبلی واپس جانا چاہتے ہیں ، انہوں نے اسپیکر قومی اسمبلی کو پہلے ہی آگاہ کردیا تھا مگر پھر بھی ان کے استعفے منظور کرلیے گئے۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے یہ ریمارکس سامنے آئے کہ پہلے آپ استعفے دینے پر بضد تھے اور اب آپ کہہ رہے کہ آپ کے استعفے منظور نہ کیے جائیں ، اور آپ اسمبلی واپس جانا چاہتے ہیں ، تاہم عدالت نے مدعیان کی فوری ریلیف کی استدعا منظور کرتے ہوئے ان کے استعفوں کے  نوٹی فیکیشن کو معطل کردیا ہے۔

متعلقہ تحاریر