اسلام آباد کی عدالت نے لیفٹیننٹ جنرل (ر) امجد شعیب کیخلاف مقدمہ خارج کردیا

اسلام آباد پولیس نے لیفٹیننٹ جنرل (ر) امجد شعیب کو مجسٹریٹ اویس خان کی مدعیت میں تھانہ رمنا میں درج عوام کو اداروں کے خلاف اکسانے کے مقدمے میں27 فروری کو اسلام آباد میں ان کی رہائش گاہ گرفتار کیا تھا۔

اسلام آباد کی عدالت نے لیفٹیننٹ جنرل (ر) امجد شعیب کیخلاف عوام کو اداروں کیخلاف اکسانے کا  کیس سے ڈسچارج کردیا۔

عدالت کے احکام پر دفاعی تجزیہ کار کو رہا کردیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

نفرت پھیلانےکا الزام: لیفٹیننٹ جنرل (ر) امجد شعیب 3 روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

وی او پی کی امجد شعیب کی گرفتاری کی مذمت، افواج پاکستان سے مداخلت کا مطالبہ

اسلام آباد پولیس نے لیفٹیننٹ جنرل (ر) امجدشعیب کو مجسٹریٹ اویس خان کی مدعیت میں تھانہ رمنا میں درج عوام کو اداروں کے خلاف اکسانے کے مقدمے میں27 فروری کو اسلام آباد میں ان کی رہائش گاہ گرفتار کیا تھا۔

 گرفتاری کے بعد امجدشعیب کو جوڈیشل مجسٹریٹ عباس شاہ کی عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔پولیس نے امجد شعیب کے 7 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی تاہم عدالت نے انہیں 3 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا تھا۔

جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پرلیفٹیننٹ جنرل (ر) امجدشعیب کو آج اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج طاہر عباس سِپرا  کی عدالت میں پیش کیا گیا۔دفاعی تجزیہ کار کے وکیل میاں اشفاق علی ایڈووکیٹ کے دلائل کے بعد عدالت نے امجد شعیب کو کیس سے ڈسچارج کرکے انہیں رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

واضح رہے کہ  گزشتہ روز دفاعی تجزیہ کار کی حوالات میں موجودگی کی تصویر سامنے آئی تھی جس میں ان کے سیل میں کیمرا بھی لگا ہوا نظر آرہا تھا۔ اس تصویر کے سامنے آنے کےبعد سوشل میڈیا صارفین نے شدید غم و غصے کا مظاہرہ کیاتھا۔

متعلقہ تحاریر