بل بھرنے والے نادہندگان کا بوجھ کیوں اٹھائیں؟ چیئرمین نیپرا حکومت اور آئی ایم ایف گٹھ جوڑ میں رکاوٹ بن گئے

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بجلی کی قیمت میں اضافی سرچارج کی منظوری قانونی رائے سے مشروط کر دی۔نیپرا اتھارٹی نے  اضافی سرچارج عائد کرنے پربھی شدید تحفظات کااظہار کردیاہے

عالمی مالیاتی ادارے ( آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت رواں مالی سال جون تک بجلی صارفین سے اضافی76ارب روپے  کی وصولی کے لیے 3 روپے 39 پیسے فی یونٹ اضافی سرچارج لگانے کی حکومتی کوششوں کو دھچکا۔

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بجلی کی قیمت میں اضافی سرچارج کی منظوری قانونی رائے سے مشروط کر دی۔نیپرا اتھارٹی نے  اضافی سرچارج عائد کرنے پربھی شدید تحفظات کااظہار کردیاہے ۔

یہ بھی پڑھیے

 نیپرا کا اہلیان کراچی کو بجلی کا جھٹکا، فی یونٹ قیمت میں 1 روپیہ 71 پیسے اضافہ

نیپرا نے بجلی کی قیمت میں اضافی تین روپے انتالیس پیسے فی یونٹ سرچارج لگانے کی حکومتی درخواست پر سماعت مکمل کرلی،چیئرمین نیپرا توصیف فاروقی نے کہاکہ نیپرااس سرچارج کو مسترد یا منظور نہیں کر رہا ہے ۔

چیئرمین نیپرا  نے کہا کہ ان کے پاس اسکا اختیار ہی نہیں پاور ڈویژن پہلے اس پر قانونی رائے دے پھر منظوری کا فیصلہ ہوگا۔ پاور ڈویژن حکام نے کہاکہ وہ سرچارج کے نفاذ سے متعلق قانونی سوالات کا جواب پوچھ کر بتادیں گے۔

چیئرمین نیپرا نے کہاکہ نیپرا کے پاس سرچارج کی منظوری یا نامنظور کرنے کی پاور ہی نہیں؟ہمیں سرچارج کے نفاذ پر حکومت کی لیگل پوزیشن درکار ہے۔ اگر یہ طاقت حکومت کے پاس ہے تو ذمہ داری نیپرا پر نہ ڈالی جائے۔

نیپرا اتھارٹی نے پاور سیکٹر کی صورتحال پر شدید برہمی کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ جہاں ہم پہنچے ہیں یہ صورتحال ایک دن میں نہیں ہوئی ہے ۔  نیپرا  حکام نے باربارکہا کہ ہم نیچے جارہے ہیں مگر کچھ نہیں کیا گیا ۔

ممبر نیپرا رفیق شیخ کا کہنا تھا کہ آپ ورکنگ کرلیں اس سرچارج سے حکومت کا مسئلہ حل نہیں ہوگا۔انڈسٹری کا ٹیرف 32 روپے فی یونٹ تک پہنچ جائے گا۔اگر انڈسٹری متبادل آپشن پر چلی جائے توریکوری کیسے ہوجائے گی؟۔

چیئرمین نیپرا نے کہا کہ ہماری گورننس،ریکوریز کے مسائل حل نہیں ہو رہے،نقصانات کے چیلنجز بڑھتے جارہے،ہم سبسڈیز،سرچارج پر زیادہ زور دے رہے ہیں مگر کرنے والے کام نہیں کررہے۔

یہ بھی پڑھیے

میرابس چلے تو بجلی 300 روپے یونٹ ،پٹرول 500 روپے لیٹر کردوں،مخدوم احمد محمود

چیئرمین نیپرا نے سوال کیا کہ کیا نیپرا اتھارٹی سرچارج کے نفاذ کو مسترد کرسکتی ہے؟ جس پر پاور ڈویژن حکام نے جواب دیا کہ جی نیپرا اتھارٹی اس سرچارج کے نفاذ کو مسترد کرسکتی ہے۔

چیئرمین نیپرا نے کہاکہ جن بیچاروں نے بل دیا،3 روپے 39 پیسے کا سرچارج انہوں نے دینا ہے مگر جو لوگ بل نہیں دیتے وہ تو آج بھی مسکرا رہے ہیں۔ کمپنیزنے جو کام کرنے تھے وہ نہیں کئے۔اب عوام پر ہی سرچارج لگا رہے۔

متعلقہ تحاریر