اے ٹی سی کا صحافی صدیق جان کو جوڈیشل کمپلیکس تشدد کیس میں بری کرنے کا حکم

انسداد دہشتگردی کی عدالت کے جج نے ریمارکس دیئے کہ صدیق جان صحافی ہیں دہشت گرد نہیں، جج نے دلائل سننے کے بعد مزید ریمانڈ کی پولیس کی درخواست مسترد کر دی۔

اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت (اے ٹی سی) نے بدھ کے روز بول ٹی وی کے بیورو چیف صدیق جان کو بری کر دیا ہے۔ صدیق جان کو دو روز قبل سابق وزیراعظم عمران خان کی فیڈرل جوڈیشل کمپلیکس (ایف جے سی) کے باہر آمد کے موقع پر تشدد اور ہنگامہ آرائی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان دو روز قبل توشہ خانہ کیس کے سلسلے میں جوڈیشل کمپلیکس اسلام آباد حاضر ہوئے تھے۔

خیال رہے کہ بول ٹی وی کے اسلام آباد کے بیورو چیف صدیق جان کو پولیس نے پیر کی رات ان کے دفتر کے باہر سے زبردستی اٹھایا تھا اور نجی گاڑی میں نامعلوم مقام پر لے گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

کارسرکار میں مداخلت: شاہ محمود قریشی کی دو مقدمات میں 10 اپریل تک ضمانت منظور

عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید پر فردجرم کی کارروائی 14 اپریل تک موخر

صدیق جان کی گمشدگی کے بعد ان کے صحافی دوستوں نے شہر کا ہر ایک تھانہ چھان مارا تھا تاہم پولیس کا موقف تھا کہ انہیں صدیق جان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں کہ کس سے انہیں اٹھایا ہے۔

تاہم گھنٹوں بعد اسلام آباد پولیس نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر پیغام جاری کرتے ہوئے لکھا تھا کہ جوڈیشل کمپلیکس میں تشدد ، آتشزدگی اور محاصرے کے خلاف درج مقدمے میں سی ٹی ڈی پولیس نے گرفتار کیا تھا۔

واضح رہے کہ منگل کے روز انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت (اے ٹی سی) نے صدیق جان کا ایک روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا، جس کے بعد آج اسے پیش کیا گیا، جہاں پولیس نے مزید 5 روزہ ریمانڈ کی استدعا کی تھی، تفتیشی افسر نے ادریس چاچڑ کو رہا کرنے کی سفارش کی۔ ادریس چاچڑ کو صدیق جان کے ساتھ پیر کی رات اٹھایا گیا تھا۔

اس موقع پر انسداد دہشتگردی کی عدالت کے جج جواد عباس نے ریمارکس دیئے کہ صدیق جان صحافی ہیں دہشت گرد نہیں۔

اے ٹی سی کے جج نے دلائل سننے کے بعد مزید ریمانڈ کی پولیس کی درخواست مسترد کر دی اور صدیق جان اور ادریس چاچڑ کے خلاف مقدمہ خارج کر دیا۔

متعلقہ تحاریر