فیصل مسجد میں درندگی؛ عید کے روز غیر ملکی خاتون سے جنسی ہراسانی مگر  پولیس خاموش

عید الفطر کے دوسرے روز اسلام آباد کی شاہ فیصل مسجد میں غیرملکی خاتون سیاح کو بے ہنگم ہجوم نے جنسی ہراسانی کا نشانہ بنایا جبکہ  پولیس تاحال کسی قسم کی کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی،اسلام آباد کے رہائشیوں کے مطابق عید پر پولیس سیکیورٹی موجود نہیں تھی

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی شاہ فیصل مسجد میں  عید الفطر کے دوسرے روز  غیرملکی خاتون کو بھاری ہجوم میں گھیرے میں لیکر جنسی طور پر ہراسانی کا نشانہ بنایا جبکہ پولیس نے کوئی کارروائی نہیں کی۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق غیر ملکی سیاح خاتون سے   جنسی ہراسانی کا  واقعہ ملک کی مشہور و معروف  شاہ فیصل  مسجد میں پیش آیا، پولیس نے واقعے کا نوٹس لے لیا  لیکن  کوئی تحقیقات شروع نہیں کی ہے ۔

یہ بھی پڑھیے

گلوکارہ ماہا علی کاظمی کا علی نور پر کوک اسٹوڈیو میں جنسی ہراسانی کا الزام

اسلام آباد میں شکر پڑیاں کے واقعے کے بعد شاہ فیصل مسجد میں  غیرملکی خاتون سیاح کو عید کے دوسرے روز بے ہنگم ہجوم نے  جنسی طور پر ہراساں کیا جبکہ اس موقع پر پولیس بھی موجود نہیں تھی۔

سوشل میڈیا پر وائرل وڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ وفاقی داراحکومت کی مسجد میں غیرملکی سیاح خاتون کو ذلت انگیز انداز میں ہراساں کیا گیا جس کی وجہ سے وہ جلد از جلد وہاں سے نکلنے پر مجبور ہوگئی۔

اسلام آبادیز نامی ایک ٹوئٹر ہینڈل سے افسوسناک واقعے کی وڈیوز شیئر کرتے ہوئے بتایا گیا  کہ عید کے موقع پر شاہ فیصل مسجد ،مین ہائی وے اور کئی جگہوں پر پولیس اور ٹریفک پولیس موجود نہیں تھی ۔

سوشل میڈیا پر وائرل وڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ  ایک بے ہنگم مردوں اور بچوں کا  ہجوم غیر ملکی خاتون سیاح کے پیچھے پیچھے بھاگ رہے تاہم ایک شخص نے خاتون کو وہاں سے نکلنے میں مدد فراہم کی ۔

واقعے کی وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے ہی صارفین نے اسے انتہائی جاہلانہ طرز عمل قرار دیا اور پولیس اور دیگر حکام سے نوٹس لینے اور ہراسانی کرنے والوں کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔

ایک خاتون صارف نے لکھا کہ پاکستان کا خوبصورت ترین دارالحکومت، باقی ملک کیسا ہو گا خود سوچ لیں جبکہ عبداللہ نامی ایک  ٹوئٹر صارف نے کہا کہ "کتنے پست، جاہل اور ذلیل ہیں ہم” ۔

یاد رہے کہ شاہ  فیصل مسجد کے واقعے  سے قبل  اسی طرح کا ایک اور واقعہ پاکستان کے یوم آزادی والے روز شکر پڑیاں میں پیش آیا تھا جہاں متعدد غیر ملکیوں خواتین کو ہراسانی کا نشانہ بنایا گیا تھا ۔

واضح رہے کہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 509 کے تحت اگر کوئی شخص کسی عورت کی توہین کرتا ہے، خواہ اشاروں یا الفاظ کے ذریعے،  اسےتین سال قید، یا جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔

متعلقہ تحاریر