حکومت نے دہشتگردوں سے مذاکرات کے امکان کو مکمل طور پر مسترد کردیا

دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا کہ حکومت کالعدم تنظیموں  ٹی ٹی پی اور ای ٹی آئی ایم سمیت کسی بھی فرد، گروہ یا جماعت  سے کسی قسم کے مذاکرات نہیں کرے گی

پاکستان نے جمعرات کو ایک بار پھر دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ان دہشت گرد تنظیموں سے کوئی بات چیت نہیں کی جائے گی جو ملکی قوانین اور آئین کا احترام نہیں کرتیں ہیں۔

جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا کہ پاکستان دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ مذاکرات کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کالعدم ٹی ٹی پی کا ترجمان کے پی حکومت بیرسٹر سیف کی اپیل کا خیرمقدم

دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا کہ حکومت کالعدم تنظیموں  ٹی ٹی پی اور ای ٹی آئی ایم سمیت کسی بھی فرد، گروہ یا جماعت  سے کسی قسم کے مذاکرات نہیں کرے گی ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان  کسی کو بھی دہشت گردانہ سرگرمیوں اور کارروائیوں کے لیے اپنے علاقوں کو استعمال کرنے کی اجازت نہ د ےگا نہ ہی ان سے بات چیت ہوگی ۔

مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے  ترجما ن نے کہا کہ مقبوضہ علاقے میں ظلم و جبر کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ انسانی حقوق کی یہ خلاف ورزیاں بند ہونی چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق جموں و کشمیر تنازعہ کے منصفانہ اور پرامن حل کے لیے کشمیریوں حمایت جاری رکھیں گے۔

یہ بھی پڑھیے

کالعدم ٹی ٹی پی کی اے آر وائے اور ڈان نیوز کو دھمکی؛ ادارہ جاتی پالیسی تبدیل کرنے کی ہدایت

ترجمان دفتر خارجہ ممتاز بلوچ  نے عزم کا اعادہ کرتے  ہوئے  کہا کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی ان سنگین اور منظم خلاف ورزیوں کے خلاف آواز اٹھاتا رہے گا۔

عرب لیگ کے فولڈر میں شام کی واپسی کے بارے میں سوال پر ترجمان نے اسے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا اور امید ظاہر کی اس سے علاقائی امن و سلامتی میں مدد ملے گی۔

متعلقہ تحاریر