جسٹس بابرستار نے ٹیلی فونک گفتگو کی ریکارڈنگز کی قانونی حیثیت کے تعین پر معاونت طلب کرلی

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستارنے تحریری فیصلے میں شہریوں کی ٹیلی فونک گفتگو کی ریکارڈنگز کے قانونی فریم ورک کے بارے میں اٹارنی جنرل سے معاونت طلب کی جبکہ بیرسٹر اعتزاز احسن، مخدوم علی خان، میاں رضا ربانی اور محسن شاہنواز رانجھا کو عدالت کی معاونت کے لیے مقرر کیا

اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق چیف کے  بیٹے نجم ثاقب کی درخواست پرآڈیو لیک پر خصوصی کمیٹی میں طلبی کا سمن معطل کر تے ہوئے شہریوں کی ٹیلی فونک گفتگو کی ریکارڈنگز پر اٹارنی جنرل سے معاونت طلب کرلی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستارنے جسٹس ثاقب نثار اور ان کے بیٹے کی آڈیو لیکس سے متعلق پارلیمانی کمیٹی  کے طلبی کے نوٹس کر معطل کردیا ،عدالت نے ٹیلی فونک گفتگو کی ریکارڈنگز پر معاونت طلب کرلی۔

یہ بھی پڑھیے

لاہور ہائیکورٹ نے شاہ محمود کے وکلاء کو ان سے ملاقات کی اجازت دے دی

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستارنے سات صفحات پر مشتمل اپنے تحریری فیصلے میں   شہریوں کی ٹیلی فونک گفتگو کی ریکارڈنگز کے قانونی فریم ورک کے بارے میں اٹارنی جنرل سے معاونت طلب کر لی ہے ۔

عدالتی فیصلے میں آڈیو کلپس کے منظم طریقے سے لیک ہونے پر سوالات اٹھائے ہیں اور مشاہدہ کیا ہے کہ یہ معاملہ "آئین کے آرٹیکل 9 اور 14 کے تحت شہری کی آزادی اور رازداری کے حقوق” سے متعلق ہے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آئین اور قانون شہریوں کی کالز کی سرویلنس اور خفیہ ریکارڈنگ کی اجازت دیتا ہے؟ ۔اگر ریکارڈنگ کی اجازت ہے تو کون سی اتھارٹی یا ایجنسی کس میکنزم کی تحت ریکارڈنگ کر سکتی ہے؟ ۔

جسٹس باربر ستار نے پوچھا کہ آڈیو ریکارڈنگ کو خفیہ رکھنے اور اس کا غلط استعمال روکنے کے حوالے سے کیا سیف گارڈز ہیں؟ اگر اجازت نہیں تو شہریوں کی پرائیویسی کی خلاف ورزی پر کون سی اتھارٹی ذمہ دار ہے؟۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے سوال کیا کہ غیر قانونی طور پر ریکارڈ کی گئی کالز کو ریلیز کرنے کی ذمہ داری کس پر عائد ہو گی؟۔  عدالت نے استفسار کیا کہ پارلیمنٹ کسی پرائیویٹ شخص کے معاملے پر انکوائری کر سکتی ہے؟ ۔

یہ بھی پڑھیے

پیر تک بندے کو پیش نہ کیا تو وزیراعظم اور وزیر داخلہ کو طلب کریں گے، جسٹس محسن اختر کیانی

جسٹس بابر ستار نے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے صاحبزادے نجم ثاقب کی درخواست پر بیرسٹر اعتزاز احسن، مخدوم علی خان، میاں رضا ربانی اور محسن شاہنواز رانجھا کو عدالت کی معاونت کے لیے مقرر کیا۔

عدالت نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ وزیراعظم آفس، وزارت داخلہ، وزارت دفاع اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی، جو کہ ٹیلی کام انڈسٹری کے ریگولیٹر ہیں، کو درخواست میں ضروری فریق کے طور پر شامل کیا جائے۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ پارلیمنٹ کے احترام میں تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے خصوصی کمیٹی کی تشکیل کا نوٹی فکیشن معطل نہیں کیا جا رہا۔نجم الثاقب کو خصوصی کمیٹی کی طلبی  کا نوٹس  25 مئی تک معطل رہے گا۔

متعلقہ تحاریر