اسلام آباد کی مقامی عدالت سے اعظم سواتی کا مزید ایک روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

اسپیشل پراسیکوٹر رضوان عباسی نے گزشتہ روز ایف آئی اے کی جانب سے دلائل دیتے ہوئے استدعا کی تھی کہ ملزم اعظم سواتی کا مزید 14 روز کا ریمانڈ دیا جائے ، کیونکہ ان سے ابھی موبائل فون برآمد کیا جانا ہے۔

اسلام آباد کی مقامی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما  سینیٹر اعظم سواتی کو ایک روزہ ریمانڈ مکمل ہونے پر مزید ایک روزہ کے لئے ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کردیا۔

رہنما تحریک انصاف سینیٹر اعظم سواتی کو ایک روزہ ریمانڈ مکمل ہونے پرڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت  میں ڈیوٹی مجسٹریٹ شعیب اختر کے سامنے پیش کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

سعودی عرب کا فٹبال ورلڈ کپ کے شائقین کیلئےمفت عمرہ کی سہولت کا اعلان

کیپٹن(ر) صفدر کی اعتزاز احسن کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست

وکیل پراسیکیوشن نے عدالت میں اعظم سواتی کا ٹوئٹ پڑھ کر سنایا۔ ان کا موقف تھا کہ ملزم سیاسی شخصیت ہے جس کے لاکھوں فالوورز ہیں، ملزم نے اپنے تصدیق شدہ اکاؤنٹ سے ٹویٹس کیں، جس کی تفتیش ضروری ہے جب کہ اعظم سواتی تفتیش میں تعاون نہیں کر رہے۔

بابر اعوان کا کہنا تھا کہ ان کے موکل اعظم سواتی کے گھر پر کل بغیر اجازت نامے کے چھاپہ مارا گیا اور تلاشی لی گئی۔

بابر اعوان کا کہنا تھا کہ ان کے موکل اعظم سواتی کے پاؤں کی انگلی ٹوٹی ہوئی ہے۔ انہوں نے کرسی منگوا کر اعظم سواتی کو اس کرسی پر کھڑا کیا اور عدالت کو پاؤں کی ٹوٹی انگلی اور ٹانگ پر زخم دکھائے۔

ایڈووکیٹ بابر اعوان نے کہا کہ عدالت کو بتایا جائے کہ اعظم سواتی کو کس نے تشدد کا نشانہ بنایا۔

اسپیشل پراسیکوٹر رضوان عباسی نے گزشتہ روز ایف آئی اے کی جانب سے دلائل دیتے ہوئے استدعا کی تھی کہ ملزم اعظم سواتی کا مزید 14 روز کا ریمانڈ دیا جائے ، کیونکہ ان سے ابھی موبائل فون برآمد کیا جانا ہے۔ ان کا دلائل میں کہنا تھاکہ قانون کے مطابق تفتیش کے لیے 15 روز کا جسمانی ریمانڈ دیا جا سکتا ہے۔

اسپیشل پراسیکیوٹر نے کہا کہ اعظم سواتی نے ٹوئیٹ میں جو الفاظ استعمال کئے وہ نہایت قابل اعتراض اور ہتک آمیز ہیں۔رہنما پی ٹی آئی نے تصدیق شدہ اکاؤنٹ سے قابل گرفت جرم کا ارتکاب کیا جس پر ان کے خلاف پیکا سیکشن کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

 ایف آئی اے کے وکیل کا کہنا تھاکہ ابھی یہ تعین ہونا باقی ہے کہ ٹوئیٹ کئے جانے کے عمل میں مزید کس کا کردار تھا اور فوج کے خلاف کون ٹوئیٹ کرواتاہے۔

اعظم سواتی کے وکیل بابر اعوان نے گزشتہ روز سماعت میں مؤقف اختیار کیا تاکہ ان کے موکل نے تفتیش کے عمل میں مکمل تعاون کیا ہے۔ ایف آئی اے نے اعظم سواتی کے گھر سے 40 اشیا بھی قبضے میں لی ہیں۔ان کا کہنا تھاکہ اعظم سواتی اپنی ٹویٹ کی تردید نہیں کر رہے بطور سیاست دان ٹوئیٹ کرنا ان کا حق ہے۔

اعظم سواتی نے عدالت کی جانب سے موبائل فون کی بابت دریافت کرنے پر بتایا تھا کہ انہوں نے اپنا موبائل فون گھر سے باہر پھینک دیا تھا اس میں ان کے اہل خانہ کی تصاویر تھیں۔سماعت کے موقع پر پی ٹی آئی سینیٹرز اور پارٹی رہنما اعظم سواتی سے اظہار یکجہتی کیلئےایف ایٹ کچہری پہنچے۔

عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد سینیٹر اعظم سواتی کو مزید ایک روزہ ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کردیا۔

ایف آئی اے  نے ریاستی اداروں کے خلاف ٹویٹ کرنے پر اعظم سواتی کے خلاف مقدمہ درج کرکے انہیں 12 اور 13 اکتوبر کی درمیانی شب گرفتار کیا تھا۔اب تک اس مقدمہ کے حوالے سے ان کا چار روزہ ریمانڈ دیا جاچکاہے۔

متعلقہ تحاریر