خیبرپختونخوا کی پی ایچ ڈی کی طالبہ مردوں کے شانہ بشانہ چلنے کے لیے پُرعزم

بوتیک ہولڈر خاتون طیبہ گل کا کہنا ہے کہ اگر لڑکیوں کو برابر کے مواقع میسر آئیں  تو وہ ہر میدان میں مردوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہوسکتی ہیں۔

خیبر پختون خوا کی واحد پی ایچ ڈی خاتون دوکاندار جو اپنے کاروبار سے لاکھوں کماتی ہے۔ غلطی سے واٹس ایپ نمبر ہول سیل کے ایک گروپ میں چلا گیا جس کے بعد طیبہ گل لاکھوں کمانے لگی۔

خیبر پختون خوا کے ضلع چترال سے تعلق رکھنے والے طیبہ گل جو پشاور سرحد یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کی طالبہ ہیں اور خیبر پختون خوا کی واحد پی ایچ ڈی بوتیک چلانے والی خاتون ہے جس نے 59 ٹراوزرز سے اپنے کاروبار کا آغاز کیا اور آجکل درجن سے زیادہ خواتین کیلئے گھروں پر ری سیل کی دوکانیں کھول لی ہیں۔ طیبہ گل اس وقت صوبائی دار الحکومت پشاور کے ڈینز پلازہ میں بوتیک کی مالکن ہے۔

یہ بھی پڑھیے

الخدمت پاکستان ترکیہ میں اپنے ترک بھائیوں کی امداد میں پیش پیش

3 روزہ پاکستان لٹریچر فیسٹیول اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ جاری و ساری

طیبہ گل نے نیوز 360 کے نامہ نگار سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ‘میں نے اس کاروبار کو منافع کیلئے نہیں شروع کیا بلکہ میں چاہتی ہوں کہ میرے اس کاروبار سے کئی خواتین کو گھر بیٹھے روزگار مل جائے اور الحمداللہ آج اس میں بہت حد تک کامیاب ہو چکی ہوں۔’

طیبہ گل کہتی ہے کہ ‘ہم جب بھی کئی طلباء و طالبات کو تربیت دیتے تھے تو وہ مجھے کہتے تھے کہ آپ خود اتنی پڑھی لکھی ہیں ، نوکری کر رہی ہوں لیکن ہمیں کاروبار کا کہہ رہی ہیں۔’

انہوں نے کہا کہ کہ لوگ شروع میں کہتے تھے کہ آپ اتنی پڑھ لکھ کے دوکان چلاتی ہیں ، لوگوں کی بہت ساری باتیں سنیں، لیکن الحمداللہ آج ہمارا اسٹارٹ اَپ ایک بہترین اور مقبول آئیڈیا ہے ، جس سے درجنوں افراد کو گھر بیٹھے روزگار کا مواقع مل رہے ہیں ، اور ریسلر ہم سے چیزیں خرید کر آگے منافع پر بھیجتے ہیں اور بعض نے اپنے گھروں میں بوتیک کھول لی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ شروع میں تھوڑا مشکل تھا کہ کیسے مردوں کے بیچ کپڑوں کی دوکان کھول لی جائے لیکن بعد میں سوچ کہ کیوں نہ ایک نیا اسٹیپ لیا جائے اور پشاور کے معروف ڈینز پلازے میں کپڑوں کی دوکان کھول لی جائے. انہوں نے مزید کہا کہ لڑکیاں خود بہت کچھ کر سکتی ہے انہیں مواقع مل جائیں تو مردوں کے شانہ بشانہ ہر قسم کاروبار کر سکتی ہیں۔

متعلقہ تحاریر