پشاور کی جامع مسجد میں دھماکہ ، جاں بحق افراد کی تعداد 63 ہوگئی

سی سی پی او پشاور کا کہنا ہے شہر کے تمام مذہبی مقامات کو فول پروف سکیورٹی فراہم کی گئی تھی، وقوعہ میں استعمال ہونے والی پستول سے فنگر پرنٹس اور خالی خول وغیرہ حاصل کئے گئے۔

پشاور کی جامع مسجد میں خودکش دھماکے میں شہید ہونے والے افراد کی تعداد 63 ہو گئی، اب تک 48 سے زائد شہداء کی اجتماعی نمازجنازہ ادا کی جاچکی ہے۔ سی ٹی ڈی نے دو مشتبہ افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ سی سی پی او محمد اعجاز خان کا کہنا ہے مجموعی طور پر سکیورٹی ہائی الرٹ تھی۔

لیڈی ریڈنگ اسپتال پشاور ترجمان کے مطابق کوچہ رسالدار سانحے میں شہدا کی تعداد 63 تک پہنچ گئی ہے،45 زخمی اس وقت اسپتال کے مختلف وارڈز میں زیر علاج ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

وزیرآباد، چوہدری کے نوعمر بیٹے کا دو کمسن بچوں پر وحشیانہ تشدد

کوئٹہ کے علاقے فاطمہ جناح روڈ پر دھماکہ،2 افراد جاں بحق ، متعدد زخمی

دوسری جانب سانحہ کے 48 سے زائد شہداء کی مرحلہ وار اجتماعی نمازجناز مختلف مقامات پر ادا کی گئی۔

واقعے کی ایف آئی آر ایس ایچ او کی مدعیت میں تھانہ سی ٹی ڈی میں درج کی گئی ہے جس میں قتل، اقدام قتل، دہشت گردی کی دفعات شامل کی گئیں ہیں۔

تفتیشی ٹیم ذرائع کے مطابق دھماکے میں ملوث تین سہولت کاروں کی شناخت ہوئی ہے، جو رکشے میں حملہ اور کے ساتھ آئے تھے۔ تمام زخمیوں کے بیانات قلمبند کرلئے گئے ہیں۔ سی ٹی ڈی ذرائع کے مطابق تفتیش میں جلد اہم پیش رفت کا امکان ہے۔

ادھر سی سی پی او پشاور محمد اعجاز کا کہنا ہے کہ شہر کے تمام مذہبی مقامات کو فول پروف سکیورٹی فراہم کی گئی تھی، اسی طرح ہندو برادری کا بھی بڑ اجتماع جاری تھا۔ شہر میں پولیو مہم بھی جاری ہے جس کے لیے پانچ ہزار سے زائد سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔

محمد اعجاز خان کا کہنا تھا کہ اندرون شہر کے مندروں کو بھی سکیورٹی فراہم کی گئی تھی۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی علاقہ کو گھیرے میں لیتے ہوئے ریسکیو مہم شروع کی گئی، سی ٹی ڈی، پشاور پولیس اور حساس اداروں پر مشتمل ٹیم نے موقع سے اہم شواہد حاصل کئے،جائے وقوعہ کے اطراف میں پانچ کلو میٹر تک سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کر کے تجزیہ کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ جائے وقوعہ اور اطراف میں جیو فیسنگ بھی کی گئی، موقع سے فریکل شواہد حاصل کئے گئے جن میں خودکش کے باڈی پارٹس، فنگر پرنٹس وغیرہ حاصل کئے گئے،وقوعہ میں استعمال ہونے والی پستول سے فنگر پرنٹس اور خالی خول وغیرہ حاصل کئے گئے۔

سی سی پی او محمد اعجاز خان کا کہنا تھا کہ نادرا ٹیم کو موقع پر بلا کر خود کش حملہ آور اور سہولت کاروں کی پہچان شروع کی گئی، اسی طرح ہیومن انٹیلی جنس کو بھی بروئے کار لاتے ہوئے رکشہ ڈرائیور تک رسائی حاصل کی گئی ہے۔

محمد اعجاز خان کا کہنا تھا کہ شواہد کی روشنی میں تفتیشی ٹیم نے وقوعہ کو 2/3 گھنٹوں میں ورک آوٹ کرتے ہوئے ملوث نیٹ ورک کو توڑ دیا ہے، خودکش حملہ آور کے خاندان تک رسائی حاصل کر لی گئی ہے۔ رپورٹ اور Facilitation Team کو Bust کر لیا گیا ہے۔ 48 گھنٹوں میں بقایا نیٹ ورک تک بھی پہنچ جائیں گے۔

متعلقہ تحاریر