مارچ میں شرکا کم کیوں ہیں؟ پی ٹی آئی رہنما کا سوال پوچھنے والے صحافی پر تشدد

ہنگو میں صحافی ایثارالحق قاسمی پر حملے کے معاملے پر مقامی صحافیوں نے سرکاری اور ہر قسم رپورٹنگ کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا۔

ہنگو میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مقامی رہنما صحافی کے سوال پر آپے سے باہر ہوگئے اور صحافی کو زد و کوب کرنا شروع کر دیا۔

تحریک انصاف کے مارچ کے لیے گاڑیاں زیادہ منگوانے اور کارکنان کی کم تعداد لانے پر نجی ٹی وی چینل کے صحافی نے تحریک انصاف کے ویلیج چیئرمین گل باغ محمد عارف اورکزئی سے سوال کیا کہ کیا آپ ناکام نہیں جا رہے، آپ کے ساتھ کتنے کارکن ہیں، اپنی گاڑیوں کو دیکھیں اور کارکنوں (کی تعداد) کو دیکھیں؟

یہ بھی پڑھیے

کالعدم ٹی ٹی پی کا ترجمان کے پی حکومت بیرسٹر سیف کی اپیل کا خیرمقدم

کالعدم ٹی ٹی پی ٹوٹ پھوٹ کا شکار، خراسانی گروپ کا مفتی نور سے بدلہ لینے کا اعلان

صحافی کے سوال کا جواب دینےکی بجائے پی ٹی آئی کے ویلیج چیئرمین گل باغ محمد عارف اورکزئی نے صحافی کو زد و کوب کرنا شروع کر دیا جس پھر وہاں موجود لوگوں نے صحافی کو بچا لیا۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پی ٹی آئی کے مقامی رہنما محمد عارف نے سوال پر صحافی کو لات بھی ماری۔

متاثرہ صحافی کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ پی ٹی آئی ایم این اے ندیم خیال سے کارکنوں کی تعداد کم ہونے پر سوال کیا تو ویلیج کونسل چیئرمین محمد عارف نے مجھے لات ماری، مجھ پر تشدد کیا گیا اور موبائل بھی توڑ دیا گیا۔

مقامی صحافی کا کہنا ہے کہ ایم این اے کے سامنے مجھے گالیاں دی گئیں، واقعے پر تھانا سٹی میں درخواست دے دی ہے۔

ہنگو میں صحافی ایثارالحق قاسمی پر حملے کے معاملے پر مقامی صحافیوں نے سرکاری اور ہر قسم رپورٹنگ کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا۔

خیبر پختونخواہ یونین آف جرنلسٹس نے ہنگو کی صحافی برادری کا ساتھ دینے کا اعلان کرتے ہوئے آئی جی خیبر پختونخوا اور وزیر اعلیٰ محمود خان سے نو ٹس لینے اور سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

متعلقہ تحاریر