لاہور ہائیکورٹ سے ماسٹر پلان 2050 کے معطل نوٹی فیکیشن میں توسیع
جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ یہ 2050 تک کا پلان ہے جو شہریوں پر اثر انداز ہوگا، افسوس کے ساتھ کہہ رہا ہوں کہ کھیت کھلیان ختم کرکے راتوں رات سوسائٹیاں بنادی جاتی ہیں۔
لاہور ہائیکورٹ نے شہر کے ماسٹر پلان 2050 کا نوٹی فیکیشن معطل کرنے کے حکم میں توسیع کردی۔ عدالت کا کہنا ہے شاندار سبز کھیتوں کو ختم کرکے ہاؤسنگ سوسائٹیاں تعمیر کی جارہی ہیں۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے لاہور ماسٹر پلان 2050 کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کی جس سلسلے میں ڈی جی ایل ڈی اے عامر احمد خان سمیت دیگر افسران عدالت میں پیش ہوئے۔
یہ بھی پڑھیے
لاہور ہائیکورٹ نے ایڈووکیٹ جنرل سمیت 97 لاء افسران کی برطرفی کو درست قرار دے دیا
پنجاب میں انتخابات کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں ہوا، سیکریٹری الیکشن کمیشن
عدالت نے لاہور ماسٹر پلان کا ازسرنو جائزہ لینے کے لیے انٹرنیشنل یا لوکل کنسلٹنٹ کی خدمات حاصل کرنے کی ہدایت کی اور ماسٹر پلان کے جائزے کے لیے بین الاقوامی ماہرین سے رائے لینے کی تجویز بھی دی۔
جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ یہ 2050 تک کا پلان ہے جو شہریوں پر اثر انداز ہوگا، افسوس کے ساتھ کہہ رہا ہوں کہ کھیت کھلیان ختم کرکے راتوں رات سوسائٹیاں بنادی جاتی ہیں، شاندار سبز کھیتوں کو ختم کرکے ہاؤسنگ سوسائٹیاں بنائی جارہی ہیں، کسانوں سے زمین چھین کر اکانومی کو نقصان پہچایا جارہا ہے، پہلے کہتا تھا کہ یہ ہمارے مستقبل کا معاملہ ہے لیکن آج جو آلودگی کی صورتحال ہے اس میں ہماری اور بچوں کی بقا خطرے میں پڑگئی ہے۔
بعد ازاں عدالت نے لاہور ماسٹر پلان 2050 کا نوٹیفکیشن معطل کرنے کے حکم میں توسیع کرتے ہوئے ڈی جی ایل ڈی اے کو آئندہ سماعت پر تجویز پر عملدرآمد سے متعلق عدالت کو آگاہ کرنے کی ہدایت کی۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کردی۔









