پی ٹی آئی نے جے آئی ٹی کی تشکیل کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی

پی ٹی آئی رہنماؤں نے دعویٰ کیا کہ پولیس نے ان کے خلاف دس بے بنیاد اور جعلی مقدمات درج کیے ہیں اور صوبائی حکومت کے حکم پر سیکرٹری داخلہ پنجاب نے جے آئی ٹی بنائی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے علی بلال عرف ضلے شاہ کے مبینہ قتل سے متعلق اپنے رہنماؤں کے خلاف درج مقدمات کی تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی تشکیل کے خلاف لاہور ہائی کورٹ (ایل ایچ سی) میں درخواست دائر کر دی ہے۔ جے آئی ٹی زمان پارک میں پولیس اہلکاروں پر حملوں سے متعلق بھی تحقیقات کرے گی۔

محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق جے آئی ٹی تحریک انصاف کے کارکنوں اور رہنماؤں کے خلاف درج 10 مقدمات کی تحقیقات کے لیے تشکیل دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

جے آئی ٹی کا عمران خان سمیت دیگر رہنماؤں کو کل پیش ہونے کا حکم

اے ٹی سی سے سربراہ تحریک انصاف عمران خان کو عبوری ضمانت مل گئی

ایس ایس پی عمران کشور کو ٹیم کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا جبکہ ایس پی آفتاب پھلوان کو بھی تحقیقاتی ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔

چھ رکنی ٹیم میں سے تین ارکان انٹیلی جنس بیورو، انٹر سروسز انٹیلی جنس اور ملٹری انٹیلی جنس سے ہوں گے۔

جے آئی ٹی نے عمران خان، فواد چوہدری، حماد اظہر، اعجاز چوہدری، مسرت جمشید چیمہ، فرخ حبیب، میاں محمود الرشید، میاں اسلم اقبال، ڈاکٹر یاسمین راشد اور دیگر سمیت پی ٹی آئی کے متعدد رہنماؤں کو ان کیسز میں بیانات ریکارڈ کرانے کے لیے طلب کیا تھا۔ پی ٹی آئی کے تمام رہنماؤں کو آج بدھ کے روز سی سی پی او آفس میں جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کا کہا گیا تھا۔

سی سی پی او آفس میں طلبی کے خلاف عمران خان اور فواد چوہدری سمیت پی ٹی آئی کے 11 رہنماؤں نے اپنے وکلا سکندر ذوالقرنین اور ظفر اقبال منگن کے ذریعے جے آئی ٹی کی تشکیل کے خلاف درخواست دائر کی۔ درخواست میں پنجاب حکومت اور محکمہ داخلہ پنجاب کو فریق بنایا گیا ہے۔

پی ٹی آئی رہنماؤں نے دعویٰ کیا کہ پولیس نے ان کے خلاف دس بے بنیاد اور جعلی مقدمات درج کیے ہیں اور صوبائی حکومت کے حکم پر سیکرٹری داخلہ پنجاب نے جے آئی ٹی بنائی ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ انہیں ان کے خلاف درج الزامات کی تفصیلات سے بھی آگاہ نہیں کیا گیا ہے۔

درخواست میں پی ٹی آئی رہنماؤں نے موقف اختیار کیا ہے کہ ان کے پاس علی بلال عرف ضلے شاہ کی موت سے متعلق  شواہد اور گواہ موجود ہیں اور انہوں نے ہائی کورٹ سے جے آئی ٹی بنانے کے نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ہے۔

متعلقہ تحاریر