لاہور ہائی کورٹ نے ایل ڈی اے کو ماسٹر پلان 2016 کے تحت کام کرنے کی اجازت دے

عدالت نے ماسٹر پلان 2050 پر عملدرآمد روکنے کے حکم امتناعی میں توسیع کرتے ہوئے ایل ڈی اے کے وکیل کی استدعا منظور کرلی۔

لاہور ہائی کورٹ (ایل ایچ سی) نے لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) کو  ماسٹر پلان 2016  کے تحت کام کرنے کی اجازت دے دی۔

لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس شاہد کریم نے لاہور کے ماسٹر پلان 2050 کی منظوری کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کی۔

عدالت نے ماسٹر پلان 2050 پر عملدرآمد روکنے کے حکم امتناعی میں توسیع کرتے ہوئے ایل ڈی اے کے وکیل کی استدعا منظور کرلی۔

یہ بھی پڑھیے

پنجاب حکومت کا آٹا تقسیم کے دوران جاں بحق افراد کے ورثاء کیلئے بڑا اعلان

پی ٹی آئی کی 22 افسران کی پنجاب میں تعیناتی رکوانے کیلئے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست

وکیل ایل ڈی اے کا دوران سماعت کہنا تھا کہ ایل ڈی اے کو ماسٹر پلان میں بین الاقوامی ماہرین کی نظر ثانی پر کوئی اعتراض نہیں۔ رولز کے مطابق بین الاقوامی ماہرین کی منظوری ایل ڈی اے کی گورننگ باڈی دینے کی پابند ہے۔

وکیل ایل ڈی اے کا کہنا تھا کہ گورننگ باڈی میں ممبر پنجاب اسمبلی بھی شامل ہوتے ہیں۔

دوران سماعت جسٹس شاہد کریم کا سرکاری وکیل سے استفسار کہ نگران حکومت کب جارہی ہے۔ جس پر سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ یہ تو علم نہیں ہے۔

لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس شاہد کریم نے شہری میاں عبدالرحمان کی درخواست پر سماعت کی۔ عدالت نے ایل ڈی اے کو بین الاقوامی ماہرین کی خدمات لینے کا ہدایت کر دی۔

متعلقہ تحاریر