خوش قسمتی آڑے آگئی، فواد چوہدری اور حماد اظہر گرفتار سے بچ گئے

فاضل جج اعجاز بٹر نے پولیس کو حکم دیا کہ دونوں ملزمان کو آتے ہی گرفتار کرلیا جائے، تاہم حکم نامہ تحریر ہونے سے قبل فواد چوہدری اور حماد اظہر عدالت میں پیش ہوگئے ، جس عدالت نے ان کی گرفتاری روک دی۔

ظل شاہ قتل کیس، جلاؤ گھیراؤ اور پولیس پر تشدد کا معاملہ، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما فواد چوہدری اور حماد اظہر عدالت میں پیش ، گرفتاری سے بچ گئے۔

انسداد دہشت گردی عدالت لاہور میں ظل شاہ قتل کیس، جلاؤ گھیراؤ اور پولیس پر تشدد کے مقدمے میں فواد چوہدری اور حماد اظہر کی عبوری ضمانت کی درخواستوں پر سماعت ہوئی۔

یہ بھی پڑھیے

والدین کی لڑائی نے بیٹی کو باپ اور بیٹے کو ماں سے محروم کردیا، درد ناک وڈیو وائرل

عثمان بزدار کے خلاف کرپشن انکوائریز کی تفصیلات عدالت میں پیش کردی گئیں

سماعت شروع ہوئی تو فاضل جج اعجاز بٹر نے پولیس کو حکم دیا کہ دونوں ملزمان کو آتے ہی گرفتار کرلیا جائے۔ اسی دوران رہنما تحریک انصاف حماد اظہر اور فواد چوہدری انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں پہنچ گئے۔

جس پر جج نے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ عدالت کا حکم لکھوانے سے پہلے پیش ہو گئے، لہٰذا گرفتاری کا حکم واپس لیتا ہوں۔

فاضل جج نے کہا کہ آپ دونوں حضرات نے ضمانتی مچلکے جمع نہیں کروائے، آپ دونوں آج تک عبوری ضمانت میں نہیں تھے، آپ کو پولیس گرفتار کرسکتی تھی، جے آئی ٹی کے سربراہ بھی آپ کو گرفتار کرنے پہنچ گئے ہیں۔

پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری نے جواب دیا کہ شکر ہے پولیس کو پتا نہیں چلا۔ کیس کی سماعت کے آغاز میں جے آئی ٹی کے سربراہ عمران کشور عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔

دوران سماعت فواد چوہدری کی جانب سے مقدمے سے ڈسچارج کرنے کی استدعا کی گئی۔

جس پر فاضل جج نے ریمارکس دیے کہ ابھی تک کے ضمانتی مچلکے جمع نہیں ہوئے اور آپ ڈسچارج مانگ رہے ہیں، یہاں میں کچھ کہہ دو تو پھر ایک طوفان آجائے گا۔ یہ اختیار میرے پاس نہیں ہے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ قانون آپ کو جوڈیشل مجسٹریٹ کے اختیارات تفویض کرتا ہے۔

جس پر فاضل جج اعجاز بٹر نے ریمارکس دیے کہ یہ اختیارات ایڈمن جج استعمال کر سکتا ہے۔

فواد چوہدری نے روسٹرم پر آکر کہا کہ میں عدالت کو کچھ آگاہ کرنا چاہتا ہوں، ہائیکورٹ میں جے آئی ٹی کو چیلنج کررکھا ہے، جس پر جج نے کہا کہ ہائیکورٹ نے کام سے نہیں روکا۔

پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری نے عدالت کو جواب دیا کہ بالکل ہائیکورٹ نے تفتیش سے منع نہیں کیا، سپریم کورٹ کے احکامات موجود ہیں، اس سے آپ ہدایات لیں، ہمیں مقدمے سے ڈسچارج کیا جائے، عدلیہ کی عزت کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

متعلقہ تحاریر