سیاسی دباؤ اور تناؤ کی وجہ سے رانا ثنا اللہ عارضہ قلب کی شکایت پر اسپتال جا پہنچے

ذرائع کے مطابق رانا ثنا اللہ کو رات گئے ہائی بلڈ پریشر اور عارضہ قلب کی شکایت پر فیصل آباد انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی لایا گیا جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی گئی ، وفاقی وزیر داخلہ کو طبیعت بہتر ہونے پر گھر منتقل کردیا گیا ہے

پاکستان مسلم لیگ نون (پی ایم ایل این ) کے مرکزی رہنما اور وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ شدید سیاسی الجھنوں اور تناؤ کا شکار ہوکر عارضہ قلب کے باعث اسپتال جا پہنچے ۔

شدید سیاسی دباؤ اورتناؤ کے باعث نون لیگی رہنما وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ عارضہ قلب کے وجہ سے اسپتال جا پہنچے تاہم ان کی حالت اب  قدرے بہتر ہے ۔

یہ بھی پڑھیے

عمران خان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت منظر عام سے غائب ہوگئی  

نون لیگی رہنما اور وزیرداخلہ رانا ثنااللہ کو رات گئے طبیعت ناساز ہونے کی وجہ سے اسپتال منتقل کیا گیا  جہاں انہیں فوری طور پر ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی ۔

ذرائع کے مطابق رانا ثنا اللہ کو  گزشتہ رات اچانک ہائی بلڈ پریشر اور دل میں درد کی شکایت ہوئی جس پر انہیں فیصل آباد انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی لایا گیا ہے۔

ملک کے غیرمستحکم سیاسی حالات کی باعث وفاقی وزیر داخلہ  دباؤ اور تناؤ کے باعث ہائی  بلڈ پریشر میں مبتلا ہوئے، انہیں دل میں درد کی شکایت بھی ہوئی ۔

فیصل آباد انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ  کے ای سی جی سمیت دل کے دوسرے ٹیسٹ بھی کیے گئے جوکہ مثبت آئے  ہیں ۔

ذرائع نے بتایا کہ رانا ثنا اللہ کو بخارکی شکایت بھی تھی تاہم اسپتال میں طبی امداد کے بعد ان کی حالت بہتر ہے اور انہیں اسپتال سے گھر منتقل کردیا گیا ہے ۔

یہ بھی پڑھیے

گرفتاری کا ڈر یا وجہ بیماری بنی ، شہباز گل سروسز اسپتال داخل

مقامی اسپتال کے حکام نے میڈیا کو بتایا کہ وفاقی وزیر کی حالت میں بہتری آئی ہےاور ممکنہ ہارٹ اٹیک کی جانچ کرنے کیلئے کئی ٹیسٹ کیے گئے جو مثبت آئے۔

ماہر امراض قلب نے وفاقی وزیر کو تناؤ سے بچنے کے لیے کچھ دن آرام کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ حکام نے بتایا کہ رپورٹس یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آرام کی ضرورت ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال  رانا ثناء اللہ کو چیک اپ اور سرجری کے لیے اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔نون لیگی رہنما  گزشتہ کئی عرصے سے  عارضہ قلب میں مبتلا ہیں۔

متعلقہ تحاریر