لاہور ہائیکورٹ نے خدیجہ شاہ کی نظر بندی کو غیر قانونی قرار دینے کی درخواستیں مسترد کر دیں
عدالت عالیہ نے اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ جاری تحقیقات میں قانونی طریقہ کار کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ (ایل ایچ سی) نے بدھ کے روز معروف فیشن ڈیزائنر اور پی ٹی آئی کے سرگرم کارکن خدیجہ شاہ اور 9 مئی کو ہونے والے آتش زنی کے واقعات میں ملوث دیگر افراد کی حراست کو غیر قانونی قرار دینے کی درخواستوں کو مسترد کر دیا۔
جسٹس باقر نجفی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی اور تحریری فیصلہ جاری کیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست گزاروں کی حراست کو اس مرحلے پر غیر قانونی نہیں سمجھا جا سکتا، کیونکہ قانون اس وقت اپنا راستہ اختیار کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
لاہور کے علاقے اندرون بھاٹی گیٹ میں گھر میں آگ لگ گئی، 10 افراد جاں بحق
لاہور ہائیکورٹ سے عمران خان کو بڑا ریلیف مل گیا، 7 مقدمات میں حفاظتی ضمانت منظور
لاہور ہائیکورٹ نے اس بات پر زور دیا کہ قانونی طریقہ کار کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا اور درخواست گزاروں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، جبکہ تحقیقات بھی جاری ہیں۔
تحریری فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ 9 مئی والے منحوس دن پر رونما ہونے والے واقعات نے بھی سول نظام انصاف کے لیے ایک چیلنج کھڑا کر دیا۔
جسٹس باقر نجفی نے فیصلہ سناتے ہوئے تسلیم کیا کہ ملزمان کے قانونی حقوق ہیں جو عدالتوں کے پاس ہیں۔
جسٹسس باقر علی نجفی نے ریمارکس دیئے ہیں کہ اگرچہ درخواست گزاروں کے پاس بلاشبہ پیروی کرنے کے لیے قانونی راستے ہیں، تاہم عدالت انہیں مشورہ دیتی ہے کہ وہ معمول کے مطابق انکوائری کا حصہ بنیں۔ کیونکہ قائم شدہ طریقہ کار کو نظرانداز کرنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
خدیجہ شاہ ایک ممتاز فیشن ڈیزائنر اور امریکی شہری ہیں، کو 9 مئی کو پرتشدد مظاہروں کے دوران لاہور کے کور کمانڈر ہاؤس (جناح ہاؤس) کو نذر آتش کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔
امریکی حکام کی درخواست کے بعد پاکستانی نژاد امریکی کو قونصلر رسائی دی گئی اور بعد ازاں اسے دیگر قید خواتین کارکنوں اور رہنماؤں کے ساتھ 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔









