مظفر گڑھ کے محنت کش کی بجلی کےلیے پارلیمنٹ کے سامنے دہائی

محمد سلیم نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر اسلام آباد میں ان کا مسئلہ حل نہ ہوا تو وہ کہاں جائیں، کس سے فریاد کریں۔؟

مظفر گڑھ کے محمد سلیم محنت مزدوری کرکے اپنا گزر بسر کرتے ہیں۔ وہ بھی ان سیکڑوں  اور ہزاروں پاکستانیوں میں شامل ہیں جو روز بہت سی امیدیں لگا کر شہر اقتدار اسلام آباد آتے ہیں کہ شاید ان کے مسائل حل ہو جائیں گے۔

محمد سلیم کئی روز سے وزیراعظم آفس، ایوان صدر، ایوان وزیراعظم، سول سیکرٹریٹ اور پارلیمنٹ کے چکر لگا رہے ہیں، مگر داد رسی کی کوئی صورت دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ سب در کھٹ کھٹا لئے مگر کوئی فریاد سن کر درد کا مداوا کرنے کو تیار نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان پیپلز پارٹی کا عوامی سطح پر پی ڈی ایم کو جواب

نیوز 360 سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے محمد سلیم کا کہنا تھا کہ مظفر گڑھ میں ان کا علاقہ آج بھی اس ترقی یافتہ دور میں بجلی کی بنیادی سہولت سے محروم ہے۔ وہاں نہ کھمبے ہیں نہ تاریں ہیں اور نہ  ہی ٹرانسفارمر ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ وہ اور علاقے کے مکین کئی برس سے بجلی کے حصول کے لیے کوشاں ہیں مگر کوئی امید بر نہیں آرہی ہے۔

محمد سلیم نے بتایا کہ انہوں نے اس حوالے سےعلاقہ کے رکن قومی اسمبلی سے رابطہ کیا تو جواب ملا کہ وہ اپوزیشن میں ہیں اس لیے ان کے پاس فنڈز نہیں ہیں۔ حلقہ کے رکن صوبائی اسمبلی کا موقف تھا کہ واپڈا وفاق کا محکمہ ہے اور بجلی کی فراہمی وفاق کی ذمہ داری ہے۔

محمد سلیم کا کہنا تھا کہ “سب نے کہا یہ مسلہ اسلام آباد میں ہی حل ہوگا اس لیے محنت مزدوری کر کے رقم جمع کی اور وفاقی دارالحکومت آگیا ہوں۔ میں کئی روز سے ہوٹل میں اس امید پر رہائش پزیر ہوں کہ شاید آج نہیں تو کل میری دادرسی ہو جائے گی۔”

انہوں نے بتایا کہ وہ وزیر اعظم شکایت سیل میں درخواست دے چکے ہیں اور سٹیزن پورٹل پر بھی۔

انہوں نے بتایا کہ وہ کئی روز سے پارلیمنٹ کے بھی چکر لگارہے ہیں مگر انہیں اندر جانے کی اجازت نہیں ہے، وہ دفاتر کے چکر لگا لگا کر تھک گئے ہیں۔ محمد سلیم نے سوال کیا کہ اسلام آباد کے بعد اب وہ کہاں جائیں۔؟ کس سے فریاد کریں۔؟

Facebook Comments Box