حمزہ شہباز کی سیاسی اور ذاتی زندگی پر ایک تجزیاتی رپورٹ
1999 میں جب شریف فیملی جلاوطنی کی زندگی گزار رہی تھی تو حمزہ شہباز شریف نے سیاست میں قدم رکھا۔
پنجاب کے نومنتخب وزیراعلیٰ میاں حمزہ شہباز شریف کے سیاسی کیریئر اور زندگی پر ایک طائرہ نظر ڈالتے ہیں۔ حمزہ شہباز شریف کا تعلق پنجاب کی بڑی سیاسی جماعت سے ہے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف موجودہ وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف کے بڑے صاحبزادے ہیں، ان کو کالج کے زمانے میں جیل میں ڈالا گیا اور پھر وہ 1999 میں باقاعدہ سیاست میں آ گئے۔
یہ بھی پڑھیے
راجہ پرویز اشرف نے اسپیکر قومی اسمبلی کا حلف اٹھالیا
آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے
تفصیلات کے مطابق میاں حمزہ شہباز 6 ستمبر 1974 کو لاہور میں پیدا ہوئے، آپ میاں شہباز شریف کے بڑے صاحبزادے ہیں۔ 1994 میں جب ن لیگ کی حکومت ختم ہوئی، میاں حمزہ شہباز گورنمنٹ کالج میں بی اے کے طالب علم تھے۔
حمزہ شہباز شریف نے گورنمنٹ کالج لاہور سے گریجویشن کی جبکہ لندن سکول آف اکنامکس سے ایل ایل بی کیا۔
حمزہ شہباز شریف دو بار رکن قومی اسمبلی اور ایک بار ممبر صوبائی اسمبلی رہے۔
1999 میں جلاوطنی کے دوران سیاست میں حمزہ شہباز شریف نے قدم رکھا، جس وقت شریف خاندان بیرون ملک مقیم تھے اس وقت حمزہ شہباز یہاں سیاسی محاذ پر تھے۔
حمزہ شہباز شریف سیاست میں اپنے تایا سابق وزیراعظم نواز شریف کو کاپی کرتے ہیں اور ان کی سیاست سے متاثر بھی ہیں۔ 2008 میں صوبائی اسمبلی کا انتخاب لڑا اور پھر قومی اسمبلی کا ضننی انٹخاب لڑ کر جیتے۔
2013 میں دوبارہ قومی اسمبلی کا انتخاب لڑے اور ریکارڈ ووٹوں کے ساتھ ایوان میں پہنچے، قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 119 سے کامیاب ہوکر رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے جوکہ جون 2013 سے 31 مئی 2018 تک رہے جبکہ دوسری مرتبہ رکن قومی اسمبلی اور حکومت کی ہر سطح پر مدد کی، پارٹی کو لاہور میں فحال کیا۔
2018 میں قومی اور صوبائی اسمبلی کی بیک وقت رکن منتخب ہوئے لیکن صوبائی اسمبلی کی سیٹ پی پی 146 کی نشست کو جاری رکھی اور اپوزیشن لیڈر کے طور پر نامزد ہوئے۔
اسی دوران 2019 مئی میں حمزہ شہباز پارٹی کے مرکزی نائب صدر بھی بنے، 16 اپریل 2022 کو ہونے والے قائد ایوان کے انتخاب میں متحدہ اپوزیشن کے امیدوار سے الیکشن لڑا اور پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب کے 197 ووٹ لیکر 21 ویں وزیراعلیٰ منتخب ہوئے۔









