پنجاب کا بجٹ نہ ہوا مولا جٹ ہو گیا
اسپیکر پنجاب اسملبی نے حکومت کی جانب سے معاہدے کے مطابق آئی جی اور چیف سیکریٹری کو ایوان میں بلانے پر بجٹ اجلاس آج دوپہر ایک بجے تک ملتوی کردیا۔
حکومت اور اپوزیشن کی آپسی چپکلش کی وجہ سے تاریخ میں پہلی بار پنجاب کا آئندہ مالی سال کا بجٹ اپنی مقررہ تاریخ پر پیش نہیں کیا جا سکا ، اسپیکر چوہدری پرویز الہٰی نے بجٹ اجلاس آج دوپہر 1 بجے تک ملتوی کردیا۔
پنجاب کا بجٹ نہ ہوا مولا جٹ ہو گیا جو کسی کی پکڑ میں ہی نہیں آیا، اپوزیشن اور حکومتی بنچز کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف احتجاج جاری رہنے کے باعث کئی گھنٹے کی تاخیر شروع ہونے والا بجٹ اجلاس بغیر کارروائی کے ملتوی کردیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے
چھ گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہونے والا اجلاس ایک مرتبہ پھر ہنگامہ آرائی کی نظر
ایم پی اے سبطین خان پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف نامزد
13 جون کا دن پنجاب کی تاریخ کے سیاہ ترین دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا، 12 کروڑ عوام کا صوبہ حکومت اور اپوزیشن کی سیاست کی نظر ہو گیا ، حمزہ شہباز کی حکومت آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش نہ کرسکی ، حکومت معاہدے کے مطابق حکومت نے آئی جی پنجاب اور چیف سیکریٹری پنجاب کو ایوان میں لانے سے انکار کردیا ، جس پر اسپیکر پنجاب اسمبلی نے بجٹ پیش کرنے کی اجازت نہ دی اور اجلاس آج دوپہر ایک بجے تک کے لیے ملتوی کردیا۔
تفصیلات کے مطابق 13 جون پیر کے روز پیش ہونے والا اجلاس بجٹ پیش ہوئے بنا ہی ملتوی ہوگیا، چھ گھنٹے سے تاخیر سے شروع ہونے والا اجلاس حکومت اور اپوزیشن کی ضد کی نظر ہوگیا ، 12 کروڑ عوام کے سب سے بڑے صوبے میں بجٹ اجلاس آئی جی پنجاب اور چیف سیکرٹری کے اجلاس میں نہ ہونے کے باعث ملتوی ہوگیا ، اسمبلی کا ایوان طنزیہ جملوں کے تبادلوں پر چلتا رہا ، اپوزیشن اور حکومت کے بزنس ایڈویزری کمیٹی میں ڈیڈ لاک سے معاہدے کی بنیاد پر شروع ہوا اور چھ گھنٹے بعد اجلاس 8 بجے رات شروع تو ہوا مگر مکمل نہ ہوسکا۔
بجٹ اجلاس میں پہلے صوبائی وزیر عطاء اللہ تارڑ کے ایوان میں موجود ہونے پر تاخیر کی نظر ہو گیا، حکومت کی جانب سے یہ موقف اختیار کیا گیا کہ صوبائی وزیر چھ ماہ تک ایوان کی کاروائی کا حصہ بن سکتا ہے جبکہ اپوزیشن والے اُن کو نان ممبر ہونے کی بنا پر ایوان سے باہر جانے کا مطالبہ کرتے رہے۔
اپوزیشن اتحادی اسپیکر چوہدری پرویز الہٰی نے عطاء اللہ تارڑ کو ایوان سے باہر جانے کی رولنگ دیدی ، جس پر ن لیگ حکومتی اراکین ان کے دفاع کیلئے سامنے آگئے۔
اسپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی کے ایوان سے نکلنے کے حکم پرعطاء اللہ تارڑ ڈٹ گئے اور ایوان سے باہر جانے سے انکار کردیا۔
حکومتی ارکان کے سمجھانے کے باوجود عطاء تارڑ ایوان سے باہر نہ گئے جس پرحکومتی ارکان نے اسپیکر سے 10 منٹ کیلئے اجلاس ملتوی کرنے کی درخواست کر دی۔
اسپیکر چودھری پرویز الٰہٰی نے عطاء تارڑ کے ایوان سے باہر جانے کیلئے اجلاس 10 منٹ کیلئے ملتوی کردیا۔
دس منٹ کے لئے ملتوی کیا گیا اجلاس دوبارہ ایک گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوا اور عطاء اللہ تارڑ کو اسپیکر کی رولنگ کے تحت ایوان سے باہر جانا پڑا۔
صوبائی وزیر عطاء اللہ تارڑ کے ایوان سے چلے جانے کے بعد اسپیکر چودھری پرویز الٰہٰی کی زیرصدارت پنجاب اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا، تو اسپیکر پرویز الٰہی نے پوچھا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کہاں ہیں؟ آئی جی اور چیف سیکرٹری کو بھی پنجاب اسمبلی میں ہونا چاہیے۔
صوبائی وزیر ملک احمد خان نے کہا کہ وزیراعلیٰ حمزہ شہباز جلد ایوان میں ہونگے، اسپیکر پنجاب اسمبلی نے ایک اور رولنگ دی کہ آئی جی اور چیف سیکرٹری کو بھی پنجاب اسمبلی میں ہونا چاہیے، آئی جی اور چیف سیکرٹری نہ آئے تو بجٹ پیش نہیں ہوگا۔
اس پر اویس لغاری نے کہاکہ بجٹ اجلاس کا آئی جی اور چیف سیکرٹری سے کیا تعلق ہے، چودھری پرویز الٰہٰی نے کہاکہ منت کرکے آئی جی کو بھی اس ہاؤس میں لے آئیں۔ جب بجٹ پیش ہورہا ہو تو ضروری ہے آئی جی اور چیف سیکریٹری کا بھی موجود ہوں۔
ان کا کہناتھا کہ آپ نے چیف سیکریٹری اور آئی جی کو ڈولی میں بٹھایا ہوا ہے،ان کو ڈولی میں نہ بٹھائیں۔
قبل ازیں اسپیکر چودھری پرویز الٰہی کی زیرصدارت پنجاب اسمبلی کا بجٹ اجلاس شروع ہوا تو ایوان میں عطاء اللہ تارڑ کی موجودگی پر چودھری ظہیر الدین نے اعتراض اٹھا دیا جس پر اسپیکر اسمبلی پرویز الٰہی نے عطا تارڑ کو ایوان سے نکالنے کی رولنگ دی۔
اسپیکر پنجاب اسمبلی نے رولنگ دی کہ عطاء اللہ تارڑ کو باعزت باہر چھوڑ کر آئیں، جب تک عطاء تارڑ نہیں جاتے حمزہ شہباز کیلئے سازگار ماحول نہیں بنے گا، میں کسی کو بجٹ پیش نہیں کرنے دوں گا، ن لیگ کے ارکان عطاء تارڑ کے گرد جمع ہو گئے ، اسپیکر کے حکم پر عطاء اللہ تارڑ کو ایوان سے باہر نکالنے کیلئے سارجنٹ ایٹ آرمز پہنچ گئے۔
عطاء اللہ تارڑ کے جانے کے بعد اسپیکر کا سوال آئی جی اور چیف سیکریٹری اب تک کیوں نہیں آئے؟ وزیر اعلی پنجاب بھی اب تک نہیں آئے ؟
صوبائی وزیر قانون ملک محمد احمد خان نے کہا کہ وزیر اعلیٰ خود معاملہ دیکھیں گے اور اگر کہی پر کسی کے ساتھ زیادتی ہوئی ہو تو ایکشن لیں گے ، میں نے خود پولیس کو یاسمین راشد کی گاڑی پر ڈنڈے مارتے دیکھا ہے ، اس لیے درخواست کر رہا ہوں ، ہم یہاں موجود ہیں، آپ اپنا شکوہ کریں ہم سن رہے ہیں، آپ نعرے نا لگائیں کوئی شکایت ہے تو کریں ، حکومت کا کام ہے کے شکایت سنے۔
اس پر اسپیکر چوہدری پرویز الہٰی نے کہا ملک احمد خان صاحب آپ وزیر اعلی ، چیف سیکرٹری اور آئی جی کو بلا لیں ، وہ آئے گئے تو ہی بجٹ اجلاس ہوگا۔
میاں اسلم اقبال نے کہا کہ پولیس کو ایوان میں لا کر حکومت نے کونسا آئینی کام کیا تھا۔؟
اسپیکر اسمبلی نے کہا کہ ملک صاحب آپ سے بار بار درخواست کر رہے کہ وزیر اعلیٰ کو لے آئیں ، ایسی کیا مجبوری ہے کہ چیف سیکریٹری اور آئی جی اسمبلی نہیں آرہے۔
بلاآخر رات ساڑھے 10 بجے وزیر اعلیٰ پنجاب ایوان میں آگئے ، جس پر سابق صوبائی وزیر یاسمین راشد نے نشاندھی کی کہ چیف سیکریٹری اور آئی جی تشریف نہیں لائے۔
اسپیکر نے سوال کیا کہ چیف سیکریٹری اور آئی جی اتنے طاقت ور ہیں کہ بار بار بلانے پر نہیں آرہے ؟ اسپیکر نے رولنگ دے دی ، اگر چیف سیکریٹری اور آئی جی تشریف لائیں گے تو بجٹ پیش نہیں ہو گا۔
ملک احمد خان نے کہا کہ جب وزیر اعلیٰ آچکے ہیں ، تو چیف سیکریٹری اور آئی جی کی کیا ضرورت ہے۔
اس پر اسپیکر کا کہنا تھا کتنی بار کہہ چکا ہوں کہ آئی جی اور چیف سیکرٹری کو ایوان میں بلایا جائے۔ اگر آئی جی چیف سیکرٹری نہ آئے تو کل دوپہر ایک بجے تک اجلاس ملتوی کردوں گا۔
جس پر حکومتی رہنما اسپیکر کو سمجھتے رہے مگر اسپیکر نہ مانے اور اس طرح 12 کروڑ عوام کا صوبہ حکومت اور اپوزیشن کی سیاست کی نظر ہوگیا۔ پنجاب کی تاریخ میں پہلی بار بجٹ پیش ہوئے بغیر ہی اجلاس آج سہ پہر ایک بجے 14 جون تک ملتوی ہو گیا۔









