عدالت کے حکم پر دعا زہرہ سخت حفاظتی تحویل میں دارالامان منتقل
وزیراعظم کے معاون خصوصی سلمان صوفی نے کہا ہے کہ دعا زہرہ کو بازیاب کروا لیا گیا اور سخت حفاظتی انتظام میں دارالامان منتقل کردیا گیا ہے۔

پنجاب حکومت نے دعا زہرہ کو لاہور کے دارالامان بھجوادیا ہے جب کہ ظہیر کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔
حکومت پنجاب نے عدالتی حکم پر سخت حفاظتی انتظامات میں کراچی سے لاپتا ہو کر لاہور آنے والی بچی دعا زہرہ کو دارالامان منتقل کردیا ہے۔
اس سے قبل دعا زہرہ نے لاہور کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں درخواست دائر کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ اس کی جان کو خطرہ ہے، اسے جان سے مارنے کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
جبران ناصر کا دعا زہرا کے ٹی وی اور یوٹیوب پر انٹرویو روکنے کا مطالبہ
اپنی درخواست میں دعا زہرہ نے استدعا کی تھی کہ جان کے خطرے کے پیش نظر اسے دارالامان منتقل کیا جائے۔
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے نے دعا زہرہ کی دائر کی درخواست کو قبول کرتے ہوئے اسے لاہور کے دارالامان میں منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔
دعا زہرہ کا عدالت کے سامنے کہنا تھا کہ اس کی اپنی شوہر ظہیر احمد سے علیحدگی ہو گئی ہے تاہم وہ کسی بھی صورت اپنے والدین کے پاس نہیں جانا چاہتی ، کیونکہ اس کے والدین اسے تشدد کا نشانہ بناتے تھے۔
‘وزیر اعظم اسٹریٹجک اصلاحات’ کے سربراہ سلمان صوفی سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ” عدالتی حکم کے بعد حکومت پنجاب نے دعاء زہرہ کو سخت حفاظتی انتظامات میں دارالامان منتقل کردیا ہے۔”
معاون خصوصی سلمان صوفی نے مزید لکھا ہے کہ ” سندھ حکومت سے درخواست کی گئی ہے کہ دعا زہرا کو اس کے والدین کے پاس بھیجنے کی بجائے چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی ٹیم کو بھیجے۔”
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ ایسٹ کراچی
آج ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ ایسٹ کے جج نے مبینہ طور پر مغوی دعا زہرہ سے متعلق تفتیشی افسر (آئی او) کی تبدیلی کے کیس کی سماعت سے خود کو الگ کر لیا۔
تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ ایسٹ میں Investigating Officer (آئی او) کی تبدیلی سے متعلق کیس کی سماعت ملتوی کردی گئی تھی کیونکہ متعلقہ جج نے کیس کی سماعت سے خود کو الگ کرلیا اور اسے کسی اور جج کے ذریعے سماعت کے لیے واپس عدالت میں بھیج دیا۔
اس سے قبل یہ خبر آئی تھی کہ دعا زہرہ کو دوبارہ اغوا کر لیا گیا ہے۔ دو روز قبل دعا زہرہ جنوبی پنجاب میں ظہیر احمد کے ساتھ موجود تھیں، اس سے دو روز پہلے اس کے شوہر ظہیر احمد ضمانت کے لیے لاہور ہائی کورٹ (LHC) بہاولپور بنچ میں گئے تھے۔
لاہور ہائی کورٹ (LHC) بہاولپور بنچ سے ضمانت نہ ملنے کے بعد انہوں نے ملتان کی سیشن عدالت سے رجوع کیا تھا جہاں انہیں چار دن کے لیے حفاظتی ضمانت مل گئی تھی۔
دعا زہرہ کے کیس کا پس منظر
1: دعا زہرہ نامی بچی 16 اپریل 2022 کو کراچی کے علاقے ملیر سےلاپتا ہوئی تھی ۔ دعا زہرہ کے والد مہدی علی کاظمی نے اپنے وکیل کی وساطت سے سندھ ہائی کورٹ میں بچی کی بازیابی کے لیے درخواست دائر کی تھی۔
2: سندھ پولیس کی درخواست پر پنجاب پولیس نے دعا زہرہ کو 25 اپریل کو پنجاب کے شہر اوکاڑہ سے بازیاب کرایا تھا جو اپنے شوہر کے ساتھ مقیم تھی۔
3: رواں سال 25 اپریل کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے دعویٰ کیا تھا کہ دعا زہرہ کو پنجاب میں بازیاب کروا لیا گیا۔
4: دعا زہرہ کی بازیابی کے بعد پنجاب پولیس نے جوڈیشل مجسٹریٹ تصور اقبال کی عدالت میں پیش کیا تھا اور استدعا کی تھی کہ دعا زہرہ کو دارالامان بھیجا جائے ، تاہم عدالت نے پولیس کی درخواست کو در کرتے ہوئے ریمارکس دیئے تھے کہ دعا زہرہ آزاد شہری ہے اسے مکمل حق حاصل ہے وہ جہاں چاہیے رہے۔
5: عدالت کے سامنے بیان دیتے ہوئے دعا زہرہ کا کہنا تھا کہ اسے کسی نے اغواء نہیں کیا ، اس کی عمر 18 سال ہے اور اس نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے۔
6: دعا زہرہ نے 21 سالہ ظہیر احمد کے حق میں بیان حلفی بھی دیا تھا ، بیان حلفی میں دعا زہرہ نے 17 اپریل کو ظہیر احمد سے نکاح کا دعویٰ کیا تھا۔









