لاہور پریس کلب نے زنیرہ ماہم کو اداکارہ کہہ دیا
زنیرہ ماہم اور اس کے ساتھی کاشف ضمیر نے مغویہ بچی دعا زہرہ کی رپورٹنگ کرنے پر صحافی اسد عباس کو قتل کی دھمکیاں دی ہیں۔
کراچی سے اغواء کرکے لاہور لائی جانے والی بچی دعا زہرہ کی حقائق کی بنیاد پر رپورٹنگ کرنے پر اداکارہ زنیرہ ماہم اور کاشف ضمیر نامی شخص کی جانب صحافی اسد عباس جعفری کو مبینہ طور پر قتل کی دھمکیاں دینے پر لاہور پریس کلب نے شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
لاہور پریس کلب کے صدر اعظم چوہدری ، سینئر نائب صدر سلمان قریشی ، نائب صدر ناصرہ صدیق ، سیکریٹری عبدالمجید ساجد ، جوائنٹ سیکریٹری سالک نواز ، فنانس سیکریٹری شیراز حسنات اور اراکین گورننگ باڈی نے مذمتی بیان جاری کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
وزیر اعلیٰ پنجاب کے پرنسپل سیکرٹری کی تعیناتی لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج
وزیراعلیٰ کی کرسی پر بیٹھنے کا معاملہ ، عمران خان کے خلاف قرارداد جمع
لاہور پریس کلب کے صدر اور دیگر عہدیداران نے کہا ہے کہ ہم اسد عباس جعفری کو مغویہ بچی کے کیس کی رپورٹنگ سے روکنے کے لیے دھمکیوں کی مذمت کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ آزادی اظہار سب کا حق ہے ، صحافی کسی بھی کیس کے حقائق پر بات کرتا ہے ، اگر کسی کو برا لگتا ہے تو وہ اپنے موقف کے مطابق رائے دے سکتا ہے، لیکن کسی اختلاف رائے کی بنیاد پر کسی قسم کی دھمکیاں برداشت نہیں۔
لاہور پریس کلب کے عہدیداران کا مزید کہنا ہے اگر اداکارہ زنیرہ ماہم اور کاشف ضمیر نامی شخص کو اپنی رائے کا اظہار کرنا ہے تو یہ ان کا جمہوری حق ہے ، لیکن کسی صحافی کو قتل کی دھمکیاں اور گالیاں دینا کسی صورت برداشت نہیں۔
عہدیداران نے اعلیٰ حکام سے قتل کی مبینہ دھمکیوں کا نوٹس لینے کا مطالبہ ہے۔









