15سال قبل بیوی کو قتل کرنے والا ملزم گرفتار، ایف آئی آر درج
پیشے کے اعتبار سے قاری ، محمد صدیق نامی شخص نے اپنی بیوی تبسم شہزادی کا قتل کیا اور ٹکرے کرکے مختلف مقامات پر موجود کوڑے دانوں میں پھینک دیے تھے۔
صوبائی دارالحکومت لاہور باغوں کے شہر اور اپنے منفرد کھانوں کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور ہے، بڑھتے ہوئے جرائم کے واقعات کے پیشِ نظر شہر لاہور اب جرائم کا شہر بننے لگا ہے یہاں خواتین کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں اور قتل کے واقعات بڑھنے لگے ہیں۔
تازہ ترین رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ تھانہ چونگ میں 15 سال بعد بیوی کے قتل کا مقدمہ شوہر کیخلاف درج کیا گیا جبکہ شاہدرہ کے قریب دریائے راوی سے نامعلوم خاتون کی سر کٹی لاش برآمد ہوئی۔
یہ بھی پڑھیے
اسلام آباد پولیس اپنے شہریوں کو اغوا کرکے بھتہ طلب کرنے لگی
کراچی میں کاریں اور موٹر سائیکلیں چوری کرنے والا 14 سالہ ملزم گرفتار
ان واقعات کے حوالے سے نیوز 360 نے لاہور سے تعلق رکھنے والے کرائم رپورٹر جابر وقاص سے گفتگو کی اور جرائم سمیت خواتین کے ساتھ ہونے والے زیادتیوں کے واقعات پر انٹرویو بھی ریکارڈ کیا۔

لاہور میں پندرہ سال بعد ںیوی کے قتل کا مقدمہ درج ہوا ۔ تفصیلات کے مطابق پیشے کے اعتبار سے قاری ، محمد صدیق نامی شخص نے اپنی بیوی تبسم شہزادی کا قتل کیا اور ٹکرے کرکے مختلف مقامات پر موجود کوڑے دانوں میں پھینک دیے تھے۔
نیوز 360 کو ذرائع سے معلوم ہوا کہ محمد صدیق پہلے سے شادی شدہ اور چار بچوں کا باپ تھا اور اپنے گھر میں طالبات کو پڑھتا تھا جس سے اس کی بیوی نا خوش تھی اور محمد صدیق کو لڑکیوں کو گھر بلا کر پڑھنے پر منع کرتی تھی جس پر اکثر ان کی لڑائی ہوتی رہتی تھی، جس پر ملزم محمد صدیق کی بیوی گھر چھوڑ کر چلی گئی۔
صدیق نے بیوی کو طلاق دیدی پھر رشتہ داروں کے وجہ سے صلح کرتے ہوئے حلالہ کے ذریعے دربارہ شادی کر لی جبکہ ایک روز محمد صدیق اپنی طلباء کے ساتھ بدفعلی کرتا ہوا پکڑا گیا۔
صدیق نے اپنی بیوی کو برا بھلا کہہ کر گھر سے نکلا دیا اور دوبارہ طلاق دیدی اور اپنی شاگرد تبسم شہزادی کو گھر سے بھاگا کر شادی کر لی، صدیق نے اپنی پہلی بیوی سے چاروں بچے چھین کر دوسری بیوی کے پاس لے آیا۔
ملزم صدیق نے دوران تفتیش انکشاف کیا کہ جب اس کی بیوی حملہ ہوئی تو اس نے بچوں سے نفرت کرنا شروع کردی اور مقتولہ تبسم شہزادی کا پیٹ خرابی رہنے کی وجہ سے بچہ بھی ضائع ہوگیا ملزم نے بتایا کہ تقریباً پندرہ سال پہلے عیدالاضحی کے موقع پر دونوں میاں بیوی کی لڑائی ہوئی تو ملزم محمد صدیق نے اپنی بیوی مقتولہ تبسم شہزادی کو قتل کردیا اور ٹکرے کر کے قربانی کے جانوروں کی آلائشوں کے درمیان اس کے جسم کے ٹکڑوں کو پھینک دیا ۔

کرائم رپورٹر جابر وقاص نے نیوز 360 کو بتایا کہ پولیس کے مطابق ملزم بیوی کو قتل کرنے کے بعد کراچی منتقل ہوگیا جہاں دواخانہ چلانے لگا اس دوران متقولہ کے گھر والوں سے رابطے پر یہ کہہ دیا کہ آپکی بیٹی تبسّم شہزادی کہیں بھاگ گئی ہے۔
ملزم محمد صدیق نے کراچی میں ایک اور شادی کرلی جس سے تین بچے ہوئے ملزم دوبارہ لاہور کے علاقہ چوبرجی میں دینی تعلیم دینے لگا اور یہی آباد ہوگیا ایک روز مقتولہ کا بہنوئی ملزم محمد صدیق کو ڈھونڈتا ہوا چوبرجی پہنچا وہاں تبسّم شہزادی کے حوالے سے پوچھ گچھ سے لڑائی ہونے لگی معاملہ پولیس کے پاس پہنچا تو دوران تفتیش ملزم نے اعتراف جرم کیا اور بتایا کہ اس نے پندرہ سال پہلے بیوی کو قتل کردیا تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم نے خاتون سے پسند کی شادی کی تھی اور اہلخانہ نے 15 سال تک بیٹی سے رابطہ نہ ہونے پر شک کا اظہار کیا تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقتولہ کی ماں اور بہن نے ملزم کو شک کی بنیاد پر گرفتار کروایا تھا۔ تھانہ چوہنگ پولیس کا بتانا ہے کہ ملزم نے دوران تفتیش اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ اس نے بیوی کو 15 سال پہلے قتل کر دیا تھا جس پر مقتولہ کی ماں کی مدعیت میں اس کے خلاف مقدمہ درج کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب تارہ ترین اطلاعات کے مطابق لاہور میں شاہدرہ ٹاؤن کے قریب دریائے راوی سےخاتون کی گلا کٹی لاش برآمد ہوئی، جسے پولیس نے تحویل میں لے کر تحقیقات شروع کردیں۔
پولیس ترجمان کے مطابق شہریوں کی اطلاع پر شاہدرہ ٹاؤن پولیس نے راوی سے ملنے والی لاش تحویل میں لی۔ فرانزک ٹیموں نے شواہد اکٹھے کرکے لاش پوسٹ مارٹم کے لیے بھجوا دی ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لاش کئی دن پرانی ہے اور یہ پانی میں بہہ کر آئی یا خاتون کوقتل کر کے دریا میں پھینکا گیا؟ ان پہلوؤں پر تفتیش کررہے ہیں اور مقتولہ کے لواحقین کی تلاش جاری ہے۔









