اسٹیل اور سیمنٹ کی بڑھتی قیمتوں کے باعث کراچی ریڈ لائن منصوبے پر کام رک گیا

ایک کمپنی نے یکم جنوری ، دوسری نے 19 جنوری کو کام روکا، منصوبہ التوا کا شکار ہونے کے باعث یونیورسٹی روڈ کھنڈرات کا منظرپیش کرنے لگی،ٹریفک جام معمول بن گیا، ٹھیکیداروں کے بلوں کی ادائیگی کا معاملہ کافی حد تک حل ہو گیا ہے۔ اسٹیل کی قیمتوں میں اضافہ اصل مسئلہ ہے، پروجیکٹ ڈائریکٹر

شہر قائد میں 12برس کی تاخیر کے بعد شروع ہونے والے کراچی بس ریپڈ ٹرانزٹ(کے بی آرٹی) ریڈ لائن منصوبے پر اسٹیل اور سیمنٹ کی بڑھتی قیمتوں اور  فنڈز کی قلت کے باعث کام رک گیا۔

منصوبہ التوا کا شکار ہونے کےباعث چند سال قبل اربوں روپے کی لاگت سے تیار ہونے والی  کراچی کی مرکزی شاہراہوں میں سے ایک مین  یونیورسٹی روڈ کھنڈرات کا منظرپیش کرنے لگی، شہریوں کیلیے سفر کرنا وبال جان بن گیا۔

 یہ بھی پڑھیے

کراچی: بی آر ٹی ریڈلائن کے پہلے مرحلے پر 14 ارب سے تعمیراتی کام کی منظوری

وزیراعلیٰ سندھ کی بی آر ٹی اورنج لائن کوریڈور جلد مکمل کرنے کی ہدایت

روزنامہ جسارت میں شائع ہونے والی منیر عقیل انصاری کی رپورٹ کے مطابق  گزشتہ برس حکومت سندھ  نے ایشیائی ترقیاتی بینک  کے تعاون سے ماڈل کالونی تا نمائش  براستہ یونیورسٹی روڈ کراچی بس ریپڈ ٹرانزٹ( کے بی آر ٹی )  ”ریڈ لائن“ منصوبے پر ترقیاتی کام کا آغازکیا  تھاجو فنڈز کی قلت کے باعث اب مکمل طور پر رک گیا ہے۔

  منصوبے پر ترقیاتی کام روکنے کی وجہ سے یونیورسٹی روڈ پر ٹریفک جام  معمول بن گیا ہےجس سے شہریوں خصو صاً اساتذہ اور طلبا کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور ان کا منٹوں کا سفر گھنٹوں میں طے ہورہا ہے،کمپنی کی بھاری مشینری سڑک کے بیچوں بیچ کھڑی ہے جس کی وجہ سے دو گاڑیوں کا ایک ساتھ گزرنا بھی محال ہوگیا ہے ۔

ٹھیکیدارکے مطابق حکومت سندھ نے ریڈ لائن بس منصوبے کے لیے  بلز کی ادئیگی روک دی ہے جسکی وجہ سے ترقیاتی کام مکمل طور پر بند کردیا گیاہے۔ریڈ لائن منصوبے پر دو کمپنیاں کام کررہی تھیں جن میں سے محمد امین اینڈ سنز نے یکم جنوری   جبکہ  زیڈ کے بی  نے 19 جنوری سے کام روکا ہوا ہے۔تعمیراتی کمپنیوں کا کہنا ہے کہ بل پاس نہ ہونے کے باعث کام کو عارضی طور پر روکا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ افرادی قوت کی کمی  ،سیمنٹ اور سریا کی قیمتوں میں اضافہ بھی منصوبے کی راہ میں  بڑی رکاوٹ ہے۔انہوں نے متعلقہ حکام سے درخواست کی ہے کہ جلد از جلد ترقیاتی فنڈز جاری کیے جائے تا کہ کمپنیاں وقت پر تعمیری کام مکمل کر سکیں۔

اس حوالے سے ریڈ لائن بس منصوبے کے پروجیکٹ ڈائریکٹر پیر سجاد نے جسارت سے گفتگو کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ یہ بات درست ہے کہ ریڈ لائن بس منصوبے پر ترقیاتی کام روک دیا گیا ہے جس کی بنیادی وجہ ڈالر کی قیمتوں میں اضافے کے باعث تعمیراتی لاگت میں اضافہ ہے ۔

موجودہ سال کے آغاز سے لے کر اب تک اگر تعمیراتی شعبے میں بڑھنے والی لاگت کا جائزہ لیا جائے تو تعمیراتی کام میں سب سے اہم سریے اور سیمنٹ کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

  انہوں نے کہا کہ اسٹیل کی قیمتوں میں ا ضافے کی وجہ سے ٹھیکیداروں نے ریڈ لائن بس منصوبے پر کام روک دیا ہے۔یہ فارن فنڈڈ منصوبہ ہے، ہم اس حوالے سے بین الاقوامی اداروں کو درخواست کر سکتے ہیں کے ریڈ لائن منصوبے کو بلاتاخیر جاری رکھا جائے۔

انہوں نے کہا کہ کنٹریکٹر نے جب ریڈ لائن بس منصوبے کے لیے ٹینڈر حاصل کیا تھا اس وقت اسٹیل کی قیمت کم تھی تاہم آج اسٹیل( سریا) فی ٹن 3 لاکھ 10 ہزا روپے میں مل رہا ہے۔ ٹھیکیداروں کے پاس موجودتھا انہوں نے ریڈ لائن منصوبے پر لگادیا ہے مزید اسٹیل کی خریداری کے لیے ٹھیکیدار موجودہ ڈالر کی قیمت کے حساب سے پروجیکٹ کی رقم میں اضافے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ٹھیکیداروں کے بلوں کی ادائیگی کا معاملہ کافی حد تک حل ہو گیا ہے۔ اسٹیل کی قیمتوں میں اضافہ اصل مسئلہ ہے جس کی وجہ سے ریڈ لائن منصوبے پر کام کنٹریکٹر نے روک دیا ہے۔

اس حوالے سے منیجر ٹرانس کراچی مہوش زہرہ نے جسارت سے گفتگو کرتے ہوئے یہی موقف اختیار کیا کہ ریڈلائن بس منصوبہ ا سٹیل کی کمی کی وجہ سے روک دیا گیا ہے اور تعمیر کے لئے اسٹیل کی ضرورت ہے۔

متعلقہ تحاریر