کپاس پر ٹیکس ختم کرنے سے معیشت میں بہتری آئے گی، سید خورشید شاہ
سید خورشید احمد شاہ سے سکھر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر بلال وقار خان کی ملاقات
سکھر: وفاقی وزیر آبی وسائل سید خورشید احمد شاہ نے کہا ہے کہ کاشتکار گذشتہ سال کی تباہ کاریوں اور موجودہ معاشی صورتحال کے سبب بدحالی کا شکار ہیں ، ایسی صورت میں بنولہ پر ٹیکس ختم کرنے سے ان کی معاشی صورتحال میں بہتری آئے گی ہے۔ کپاس پاکستان کی اہم فصل ہے اس کی تیار کردہ مصنوعات و کپڑا دنیا بھر میں برآمد کیا جاتا ہے۔
ان خیالات کا اظہار سید خورشید احمد شاہ نے سکھر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر بلال وقار خان سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے تجارتی و کاروباری فروغ کے حوالے سے تبادلہ خیال کرتے ہوئے کیا۔
یہ بھی پڑھیے
کراچی سمیت سندھ کے کئی علاقوں میں اگلے ہفتے ہیٹ ویو کے خدشے کا امکان
جیو نیوز نے صحافیوں کے حقوق کیلئے آواز اٹھانے والے فہیم صدیقی کو نوکری سے فارغ کردیا
وفاقی وزیر آبی وسائل سید خورشید شاہ نے چیمبر آف کامرس کے صدر بلال وقار سے ملاقات میں کہنا تھا کہ کپاس پاکستان کی اہم فصل ہے اس کی تیار کردہ مصنوعات و کپڑا دنیا بھر میں برآمد کیا جاتا ہے اور سکھر ریجن کی معیشت میں کافی اہمیت کا حامل ہے۔
صدرِ ایوان نے وفاقی وزیر کو کپاس کے بیج (بنولہ ) کی درآمدات سے متعلق مسائل سے آگاہ کیا اور اس کی درآمد پر عائد ٹیکس کو ختم کرنے کی گذارش پیش کی اور کہا کہ کاشتکار گذشتہ سال کی تباہ کاریوں و موجودہ معاشی صورتحال کے سبب بدحالی کا شکار ہیں ، ایسی صورت میں بنولہ پر ٹیکس ختم کرنے سے ان کی معاشی صورتحال میں بہتری آئے گی جس پر سید خورشید احمد شاہ نے وفاقی وزیر برائے فنانس کو رابطہ کرکے بنولہ پر ٹیکس ختم کرنے کی تجویز سے آگاہ کیا اور صدر ایوان کو اپنے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔
اس موقع پر سکھر میں ڈرائی پورٹ کے قیام کی موجودہ صورتحال پر بات چیت کی گئی جس پر وفاقی وزیر نے بتایا کہ وہ اس منصوبے کیلئے خصوصی طور پر متعلقہ اداروں سے مسلسل رابطے میں ہیں اور پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے بھرپور طریقے سے کوشاں ہیں ، اور اس حوالے سے جلد ہی خوشخبری بھی دیں گے۔









