جان دے کر مسجد کا تحفظ کریں گے، جے یو آئی حکم عدولی کی راہ پر

سپریم کورٹ نے طارق روڈ پر قائم مدینہ مسجد کو ایک ہفتے میں گرا کر پارک بحال کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے مرکزی رہنماء اور ضلع کیماڑی کراچی کے امیر قاری محمد عثمان نے کہا کہ مدینہ مسجد طارق روڈ کا ہر صورت میں دفاع کریں گے۔ اپنی جان دے سکتے ہیں، مسجد کو شہید کرنے یا ایک اینٹ بھی گرانے نہیں دیں گے۔ عدالت عالیہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے۔ جمعیت علمائے اسلام مسجد کے تحفظ کیلئے ہرممکن حد تک جائے گی۔ بنی گالا اور حیات ریزیڈنسی ریگولائز ہوسکتی ہیں تو اللہ کا گھر کیوں نہیں؟ مسجد کے تحفظ میں جانیں نچھاور کرنے کو تیار ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں طارق روڈ پر 41 سال سے قائم مدینہ مسجد کے دورے کے موقع پر نمازیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر جے یو آئی (ف) کے صوبائی ناظم مالیات مولانا محمد غیاث، ضلع شرقی کے جنرل سیکریٹری حافظ فاروق سید اور مدینہ مسجد طارق روڈ کی انتظامیہ بھی موجود تھی۔

یہ بھی پڑھیے

پی ایس ایل 7، ویکسین کارڈ دکھائیں اور اسٹیڈیم میں میچ دیکھیں

کراچی والے2021 میں روزانہ کتنی موٹرسائیکلوں اور گاڑیوں سےمحروم ہوئے؟

قاری محمد عثمان نے کہا کہ جس جگہ مسجد بن جائے وہ قیامت کی صبح تک مسجد ہوجاتی ہے۔ مسجد ہر حال میں مسجد ہے، اسے منتقل کرنا بھی ازروئے شریعت جائز نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مفتی اعظم پاکستان مولانا مفتی محمد شفیع عثمانیؒ، محدث العصر علامہ مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ، مجاھد ملت مولانا غلام غوث ہزارویؒ، شیخ الحدیث مفتی عبدالحقؒ، مفتی اعظم پاکستان مفتی ولی حسن ٹونکی ؒ سمیت ملک بھر کے شیوخ کے متفقہ فتویٰ کا متن ہے کہ   ”پاکستان بن جانے کے بعد حکومت کے جہاں اور اہم فرائض تھے وہاں یہ فریضہ تھا کہ جگہ جگہ مساجد تعمیر کرتی۔ مسجد ایک مرتبہ تعمیر ہوجانے کے بعد ہمیشہ کیلئے مسجد ہوجاتی ہے حتی کہ فقہاء نے تصریح کی ہے کہ اگر کسی نے غصب کرکے زمین حاصل کرلی اور اس پر مسجد تعمیر کرلی تو غاصب سے تو یہ کہا جائے گا کہ مالک کو ضمان ادا کردے البتہ مسجد کو توڑا نہیں جائے گا”۔

قاری محمد عثمان نے کہا کہ 1980 سے قبل یہاں کے رہائشی اور تجارتی حضرات کیلئے نماز ادا کرنے کی کوئی جگہ نہیں تھی۔ اہل محلہ نے مدینہ مسجد کی تعمیر شروع کی اور جامعہ علوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن سے الحاق کیا۔ PECH کے سیکریٹری نے اپنی NOC میں صاف لکھا ہے کہ دلکشا پارک میں علاقے کی ضرورت کیلئے مسجد تعمیر کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ نیز اس کے بعد ہر سال آڈٹ ہوتا رہا ہے۔ تمام یوٹیلیٹی بلز وغیرہ ادا کئے جاتے ہیں اور ہر سال گوشوارہ آمدنی اور اخراجات کا آڈٹ رجسٹرڈ کمپنی سے کرایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پورے ملک میں ذاتی جائیدادیں ریگولائز ہورہی ہیں تو مساجد میں کیا مسئلہ ہے کہ ان کو شہید ہی کرنا ہے۔ خدارا اس ملک کو انارکی کی طرف نہ دھکیلا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) اس معاملے کا پوری طرح باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے۔ اگر مسجد ڈھانے کی مذموم کوشش کی گئی تو اپنے جسموں کو ڈھال بنادیں گے مگر مسجد کی ایک اینٹ بھی گرانے نہیں دیں گے۔

قاری محمد عثمان نے کہا کہ پاکستان میں سرکاری خرچ پر فحاشی اور عریانی پھیلانے کے اڈے بن رہے ہیں، مندر بن رہے ہیں مگر افسوس کی بات ہے کہ مساجد کو اسلام کے مقدس نام پر حاصل کئے گئے ملک میں فخریہ انداز میں گرایا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ 28 دسمبر کو سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں تجاوزات کیس کی سماعت کے دوران طارق روڈ پر قائم مدینہ مسجد کو گرانے کا حکم دیتے چیف جسٹس گلزار احمد نے ایک ہفتے میں کمشنر کراچی اقبال میمن سے پارک بحال کرنے کی رپورٹ طلب کررکھی ہے۔

Facebook Comments Box