عمران خان کو چھوڑ دیتے تو ملک ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتا ، فضل الرحمان

جے یو آئی (ف) کے سربراہ کا کہنا ہے عمران خان کے ترجمان بننے والا سابق وزیر خزانہ شوکت ترین خود کہتےتھے حکومت نے آئی ایم ایف سے غلط معاہدہ کیا ہے۔

سکھر: پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) اور جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اگر ہم عمران خان کو چھوڑ دیتے تو اس نے جو گند جو پھیلایا ہے اس سے ملک ٹوٹ چکا ہوتا یا پھر ٹوٹ رہا ہوتا۔ کہتے ہیں ہم نے حکومت کو چیلنج سمجھ کر قبول کیا ہے اور مختصر و طویل المدتی حکمت عملی بنالی ہے جس کے نتیجے میں دو سے چارہ ماہ میں صورتحال بہتر ہوجائے گی۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے سکھر کے مدرسہ جامعہ حمادیہ منزل گاہ میں سالانہ دستار فضیلت کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ چار سالوں میں گندگی اور غلاظت سے ملک کو نکالنے اور اس کی معیشت کو دلدل سے نکالنے میں کچھ وقت تو لگے گا۔

یہ بھی پڑھیے

قرارداد کے ذریعے گورنر کا آرڈیننس منسوخ ہوچکا اور اب نافذالعمل بھی نہیں، پرویز الہٰی

وزراء اسمبلی نہیں آتے ، گھر جائیں اور الیکشن کروائیں، خورشید شاہ

جے یو آئی (ف) کے سربراہ کا کہنا تھا عمران خان نے تو ہمیں نہ عالمی اداروں کا چھوڑا اور نہ دوست ممالک سے مدد لینے جیسا چھوڑا ہے ، سی پیک کا معاہدہ اس نے روکا بلکہ اس کے کچھ خفیہ راز بھی آئی ایم ایف کو دیئے جس سے معیشت کو دھچکا لگا۔

ان کا کہنا تھا ہم حکومت میں نہیں تھے تب بھی اس کا چار سال اس کا مقابلہ کیا اور آخر کار اسے اکھاڑ کر پھینکا اور اب اس کا پھیلایا گیا گند جو مشکل کررہا ہے اسے بھی ختم کریں گی۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ عمران خان روز الیکشن کمیشن میں جاکر فارن فنڈنگ کیس میں عدالت میں کہتے ہیں کہ نہ سنا جائے ، اس نے ایک ایک کو جیل میں ڈالا ، کیا وہ نواز شریف اور شہباز شریف سے زیادہ معتبر ہے وہ بھی تو جیلوں میں رہے ہیں۔

پی ڈی ایم کے سربراہ کا کہنا تھا اسٹیٹ بینک کو تم نے آئی ایم ایف کے حوالے کیا اور ایسے شخص کو لاکر بٹھا دیا جس نے ایک ملک کی معیشت پہلے ہی تباہ کردی تھی ، تمہارا وزیر خزانہ جو آج تمہارا سب سے بڑا ترجمان بن رہا ہے نے کہا تھا کہ آئی ایم ایف سے معاہدہ غلط ہوا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان ایک کاغذ لہرا کر کہتا ہے کہ اس پر کمیشن بناؤ ، ہم کمیشن ضرور بنائیں گے اس پر کہ کس بیرونی ایجنڈے پر تمہیں حکمرانی ملی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ملک کسی کے باپ کی جاگیر نہیں ، یہ جتنا کسی اور کا یے اتنا ہی ہمارا ہے اور ہم ااس کی بقا سے پیچھے نہیں ہٹیں گے ، ہم اتنا سادہ مولوی نہیں ہیں ، جو ملک کو ختم کرنے کے ایجنڈے پر آئے تھے ہم ان کو پہچانتے ہیں۔

جے یو آئی (ف) کے سربراہ کا کہنا تھا پاکستان مستحکم ملک ہے اس میں یقینا کچھ خرابیاں ہونگی مگر کیا کسی عمارت میں خرابی آجائے تو مکان گرا  نہیں دیا جاتا بلکہ اس خرابی کو دور کیا جاتا ہے ، اس لیے جے یوآئی کا مقصد خرابیاں دور کرنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم تمام علوم کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں مگر اس دور کی جدیدیت قرآن اور حدیث اور سنت سے لاتعلق کرنا چاہتی ہے کسی بھی دہشتگردی کے واقعہ کو مدرسے ، مذہب ، داڑھی اور پگڑی سے وابستہ کردیا جاتا ہے اور یہ کام چھوٹی موٹی تنظیمیں نہیں عالمی استعماری قوتیں کررہیِ ہیں وہ اربوں ڈالر خرچ کرکے مدرسے پگڑی ، داڑھی اور قران و حدیث سح ہمارا تعلق ختم کرنا چاہتی ہیں مگر اسے علماء نے شکست دی ہے اور دیتے رہیں گے۔

ان کا کہنا تھاکہ جب ووٹ کی پرچی کی ضرورت پڑتی ہے تو قرآن لے کر جاتے ہیں اگر قرآن پر ووٹ لینا حق بنتا ہے تو پھر سب سے زیادہ یہ علماء کا حق بنتا ہے۔

جلسے سے جے یوآئی کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولاناعبدالغفور حیدری،سندھ کے سیکرٹری جنرل راشد محمود سومرو و دیگر نے بھی خطاب کیا۔

متعلقہ تحاریر