سپریم کورٹ نے دعا زہرہ کے والد کی درخواست واپس لینے پر نمٹا دی

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری نے مہدی علی کاظمی کے وکیل کی جانب سے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنے درخواست واپس لینے پر دعا زہرہ کیس نمٹا دیا۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری نے دعا زہرہ بازیابی کیس کو نمٹا دیا ہے ، عدالت نے مہدی علی کاظمی کے وکیل کی درخواست کی واپسی کی استدعا پر درخواست کردی۔ عدالت نے درخواست گزار کو متعلقہ فورم سے رجوع کرنے کی تلقین کی۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری نے دعا زہرہ کیس کو نمٹا دیا ہے جس میں سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا ، سپریم کورٹ کا اپنے حکم میں کہنا تھا کہ متعلقہ کیس ہمارے دائرہ اختیار میں نہیں آتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

دعا زہرہ کو کسی بھی فورم پر انٹرویو سےروکا جائے، سپریم کورٹ میں نئی درخواست دائر

سندھ اسمبلی میں دعا بھٹو کی آواز ایک بار پھر بند کردی گئی

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری نے ریمارکس دیئے کہ میڈیکل بورڈ کی تشکیل کے لیے کسی مناسب فورم سے رجوع کیا جائے۔ اگر آپ نئے میڈیکل بورڈ کی تشکیل کے لیے درخواست دینا چاہتے ہیں تو متعلقہ اداروں سے رجوع کرسکتے ہیں۔

کیس کی سماعت کے دوران مدعی کے وکیل جبران ناصر نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ بیان حلفی کو ختم کردیا جائے۔

اس پر سپریم کورٹ نے ریمارکس دیئے کہ جوڈیشل مجسٹریٹ اور سندھ ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے بیان حلفی لیا ہے اس لیے ہم اس کو نظرانداز نہیں کرسکتے ہیں۔

دوران سماعت عدالت نے استفسار کیا کہ "کیا دعا زہرہ اور والدین کی ملاقات کرائی گئی تھی۔”

اس پر مہدی علی کاظمی کے وکیل نے کہا کہ تھوڑی دیر کے لیے ملنے دیا تھا۔

عدالت نے استفسار کیا آپ صرف یہ بتائیں بیٹی سے ملنے دیا تھا؟۔

اس پر والد مہدی کاظمی نے کہا کہ پانچ منٹ کے لیے چیمبر میں ملاقات کرائی تھی پندرہ بیس پولیس والے تھے۔

اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ "لڑکی عدالت کے اندر اتنے بیانات دے رہی ہے اگر آپکی ملاقات ہوجاتی لڑکی کہتی کہ مجھے شوہر کے ساتھ جانا ہے پھر کیا کریں؟۔”

جسٹس سجاد علی شاہ نے استفسار کیا میڈیکل عدالت کے حکم پر ہوا ہے میڈیکل بورڈ بنا تھا۔

وکیل جبران ناصر نے جواب دیا عدالتی حکم پر میڈیکل ہوا تھا۔

جسٹس منیب اختر نے پوچھا کہ سندھ ہائیکورٹ نے بازیابی کی درخواست نمٹا دی تھی۔

جسٹس منیب اختر نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا "کیا آپ کا کیس کسی اور عدالت میں ابھی تک زیر سماعت ہے۔

جسٹس منیب اختر کا ریمارکس دیئے کہ سندھ ہائی کورٹ نے آپ کی درخواست پر بچی کو بازیاب کرایا تھا ، بچی نے عدالت کے سامنے بیان ریکارڈ کرایا تھا۔ جس پر ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ بچی جس کے ساتھ جانا چاہتی جاسکتی ہے۔

جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا "آپ نے میڈیکل کو چیلنج کیا ہے؟۔

وکیل جبران ناصر کا کہنا تھا "ہم نے سیکریٹری صحت کو اس حوالے سے خط لکھا ہے۔”

مہدی علی کاظمی کے وکیل کا کہنا تھا پولیس نے اغواء کا کیس سی کلاس کردیا ہے۔

جسٹس منیب اختر نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ جذباتی نا ہوں ہم آپ کی قدر کرتے ہیں قانونی نکات پر عدالت کی معاونت کریں۔

جسٹس سجاد علی شاہ کا کہنا تھا "بچی نے دو عدالتوں میں جاکر بیان دیا ہے کہ مجھے کسی نے اغواء نہیں کیا ہے۔”

جسٹس سجاد علی شاہ کا کہنا تھا "سندھ ہائی کورٹ نے تفتیشی افسر کو کیس کا چالان ٹرائل کورٹ میں پیش کرنے کا کہا تھا۔

عدالت نے حکم دیا کہ "سندھ ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ کے سامنے دیا گیا دعا زہرہ کا بیان پڑھ کر سنائیں۔”

جسٹس منیب اختر نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ شادی کو اگر چیلنج کرنا ہو تو کہاں کریں گے؟

جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے کہ "فیملی کورٹ میں شادی کو چیلنج کیا جاتا ہے۔”

جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ "پنجاب کا چائلڈ میرج ایکٹ کیا کہتا ہے ، کتنے لوگ گرفتار ہوئے تھے دو لوگ گرفتار ہیں۔”

وکیل جبران ناصر نے عدالت کو بتایا کہ نکاح خواں اور ایک گواہ گرفتار ہیں۔

جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ "آپ کو سول عدالت سے رجوع کرنا چاہیے تھا اگر آپ کو کوئی ریلیف لینا چاہتے ہیں، ہمیں آپ کے جذبات کا احساس ہے بچی نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے اسکے بھی حقوق ہیں ۔”

جسٹس سجاد علی شاہ کا کہنا تھا "آپ چھ آٹھ گھنٹے بچی سے ملاقات کرلیں صبح دس سے دو بجے تک مل لیں ، آپ اور آپکی کی بیگم بچی سے تسلی سے مل لیں پوچھ لیں اس پر کوئی دباؤ ہے یا نہیں ، اگر پھر بھی بچی آپ کے ساتھ نا جانا چاہیے تو پھر آپ کیا کریں گے ، آپ کی بچی کہتی ہے کہ میں خوش ہوں تو پھر کیا کریں؟۔”

Facebook Comments Box