دریائے سندھ میں باراتیوں کی کشتی ڈوب گئی ، 10 افراد کی لاشیں نکال لی گئیں

مقامی غوطہ خوروں نے اپنی مدد آپ کے تحت 30 افراد کو زندہ بچا لیا ہے جبکہ باقی افراد کی تلاش جاری ہے۔

رحیم یار خان: شادی کی تقریب ماتم میں تبدیل ہوگئی، دریائے سندھ کے ماچھکہ کے علاقے میں کشتی الٹنے کا افسوس ناک واقعہ پیش آیا ہے ، حادثے کے نتیجے میں ابھی تک کی اطلاعات کے مطابق 10 افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں جبکہ باقی افراد کی تلاش جاری ہے ۔ ڈپٹی کمشنر رحیم یار خان کے حکم پر ضلع بھر کے غوطہ خور جائے حادثہ پر پہنچ گئے ہیں۔

تفصیلات کا کےمطابق حادثے کا شکار ہونے والی کشتی روجھان کی دریائی یونین کونسل کھروڑ سے تحصیل صادق آباد کی دریائی یونین کونسل ماچھکہ آ رہی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

امپورٹڈ غداروں کے سیاہ بادل چھٹنا شروع ہوگئے، حلیم عادل شیخ

سولنگی برادری کے مطابق کشتی میں 50 سے زائد افراد سوار تھے ، حادثے کے فوری بعد مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت 30 افراد کو زندہ بچا لیا تھا ، جبکہ ڈوبنے والوں میں سے 07 خواتین 02 بچوں سمیت 10 افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں.

سولنگی برادری کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے کوئی بھی ریسکیو کا عمل شروع نہیں کیا  گیا ہے ، علاقہ مکین اپنی مدد آپ کے تحت لاشیں نکالنے کے لئے کوششیں کررہے ہیں۔

دوسری جانب پولیس حکام کا کہنا ہے کہ حادثے کا شکار ہونے والی کشتی میں 100 افراد سوار تھے جس کی وجہ سے حادثہ پیش آیا۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دریائے سندھ میں حادثہ کا شکار ہونے والی کشتی سے 90 سے زائدافراد کو زندہ نکال لیا۔ پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ 19 لاشوں کو بھی نکال لیا گیا ہے۔

ادھرڈپٹی کمشنر رحیم یار خان  نے سید موسیٰ رضا کی ہدایت پر ضلع بھر کے غوطہ خور جائے حادثہ پر پہنچا دیئے گئے۔ 30 تا 35 ریسکیو 1122 کے غوطہ خور دریائے سندھ میں حادثہ کا شکار ہونے والی کشتی کے سواروں کو تلاش کر رہے ہیں جبکہ مقامی غوطہ خور بھی ریسکیو سرگرمیوں میں امدادی ٹیموں کے ساتھ موجود ہیں۔

متعلقہ تحاریر