سرکاری زمینوں پر قبضہ کا معاملہ، حلیم عادل شیخ سے متعلق کیس کا فیصلہ محفوظ
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈسیشن جج ملیرکی عدالت میں پی ٹی آئی رہنما حلیم عادل شیخ سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، دوران سماعت حلیم عادل شیخ نے اپنے اوپر ہونے والے مظالم بیان کیے اورخدشہ ظاہر کیا کہ مجھے جیل میں قتل کردیا جائے گا، چیف جسٹس پاکستان اور چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کو خط میں اپنے قتل سے متعلق آگاہ کرچکا ہوں

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈسیشن جج ملیرکی عدالت میں تحریک انصاف کے رہنما سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حلیم عادل شیخ کے خلاف سرکاری زمینوں پر قبضے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی ۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈسیشن جج ملیرمشتری خانم کی عدالت میں پی ٹی آئی رہنما حلیم عادل شیخ کے خلاف سرکاری زمینوں پر قبضے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ دوران سماعت سرکاری وکیل نے ملزم نے 25 ایکٹر زمین پر قبضہ کر رکھا ہے ۔
یہ بھی پڑھیے
پی ٹی آئی رہنما حلیم عادل شیخ کا جیل میں بدترین تشدد اور گلہ دبائے جانے کا دعویٰ
سرکاری وکیل وحیدانصاری نے کہا کہ ملزم پر25 ایکڑزمین پرقبضے کامقدمہ ہےجس میں 10سال تک سزا ہوسکتی ہے۔ 11 افراد نے سرکاری زمین پرقبضہ کیاہے اور مکانات بنائیں ۔
سرکاری وکیل سے استدعا کی چوری کےملزم کاسات دن کاریمانڈدے دیا جاتا ہے جبکہ یہاں ملزم توایک دن بھی پولیس کسٹڈی میں نہیں رہا۔ ملزم کونوٹس جاری کیے گئے تاہم وہ پیش نہیں ہوئے ۔
وحیدانصاری نے کہا کہ ملزم سے تفتیش نہیں ہوئی، تحقیقات کیلئے ریمانڈ چاہیے تاکہ ملزم کے دوسرے ساتھیوں کو گرفتار کیا جائے اورسرکاری زمین پر گھربنانےوالوں کے کا غذات حاصل کیے جائیں ۔
حلیم عادل شیخ نے وکیل نےعدالت میں موقف اختیار کیا کہ نوٹیفکیشن کےذریعےایف آئی آر درج کروانے کا اختیار دینا غلط ہے۔ مدعی مقدمہ کو قانون کےمطابق ایف آئی آر درج کرنےکا اختیارنہیں ہے ۔
حلیم عادل شیخ کے وکیل خالدمحمود نے کہا کہ مختیارکارتجاوزات روک سکتا ہے۔ مقدمہ درج نہیں کرسکتا۔ مختیارکارکےخلاف قانون کی خلاف ورزی پرمقدمہ درج ہوناچا ہیے ۔
یہ بھی پڑھیے
ضمانت منسوخ: اینٹی انکروچمنٹ حکام نے حلیم عادل کو گرفتار کرلیا
خالدمحمودایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ قانون کےمطابق کوآپریٹوسوسائٹی رجسٹرار ہی مقدمہ درج کرنےکامجاز ہے۔ جب تفتیش کیلئےنوٹس جاری کیاگیااس وقت حلیم عادل شیخ جیل میں تھے۔
دونوں جانب کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈسیشن جج ملیرمشتری خانم نے حلیم عادل شیخ سے متعلق کیس کا فیصلہ سات ستمبرتک فیصلہ محفوظ کرلیا ہے ۔
دوران سماعت تحریک انصاف کے رہنما حلیم عادل شیخ نے کہا کہ مجھےجیل کےاندرسے گرفتارکیاگیا جبکہ میرے میرےاستقبال کیلئےآنےوالےاراکین اسمبلی کےخلاف مقدمہ درج کرلیاگیاہے۔
ان کا کہنا تھا کہ میں نےچیف جسٹس پاکستان اور چیف جسٹس سندھ کوخط لکھا ہے کہ میری جان کوخطرہ ہے۔یہ لوگ مجھےجیل میں قتل کردیں گے۔تفتیشی افسرنےمجھ پرتشددکیا۔ جیل میں میرا گریبان پکڑا گیا ۔
ان کا کہنا تھا کہ میں قران پاک پر حلف دے سکتا ہوں میرا اس زمین سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ میری بےعزتی کرنےکیلئے جسمانی ریمانڈچاہتےہیں۔









