مریم نواز کا جیو نیوز کو تضادات سے بھرپور انٹرویو
مسلم لیگ (ن) کی سینئر نائب صدر اور چیف آرگنائزر کا کہنا ہے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو کریڈٹ جاتا ہے کہ وہ ملک کی بہتری کے لیے فیصلے کررہے ہیں۔
سوال گندم جواب چنا کی مثال مریم نواز پر مکمل طور پر فٹ بیٹھتی ہے ، کہتی ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ نے عمران خان کو زیرو سے کھڑا کیا ، مسلم لیگ ن اور دوسری پارٹیوں کے لوگ توڑ توڑ کر ان کی پارٹی بنائی گئی ، آر ٹی ایس سسٹم کو بٹھا کو عمران خان کو وزیراعظم ہاؤس میں انسٹال کیا گیا۔
جیو نیوز کے پروگرام جرگہ میں اینکر پرسن سلیم صافی کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے مریم نواز نے الزام لگایا کہ اسٹیبلشمنٹ نے عمران خان کو زیرو سے کھڑا کیا۔ جنرل (ر) احمد شجاع پاشا ، جنرل (ر) ظہیرالسلام اور جنرل (ر) فیض حمید نے اسے اسکریچ سے کھڑا کیا ، ہمارے لوگ اور باقی پارٹیوں کے لوگ توڑ کر ان کی پارٹی بنائی گئی ، ان کو پیسا دیا گیا ، سیاسی طور پر انہیں مضبوط کیا گیا ، ہمارے لوگوں سے ٹکٹ واپس لیے گئے ، جو لوگ ٹکٹ واپس کرنے کو تیار نہیں تھے انہیں کہا گیا کہ آپ آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لیں۔ جو لوگ ن لیگ کا ساتھ نہیں چھوڑنا چاہتے تھے ان کے خلاف مقدمات قائم کیے گئے۔ پھر آر ٹی ایس سسٹیم کو بٹھا کر عمران خان کو وزیراعظم ہاؤس میں انسٹال کردیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے
الیکشن آگے لے جانے والے پر آرٹیکل 6 لگے گا، شیخ رشید احمد
عطاء اللہ تارڑ کا سپریم کورٹ سے مبینہ آڈیو لیکس کی تحقیقات کا مطالبہ
مریم نواز کا کہنا تھا کہ اب وہ اسٹیبلشمنٹ چلی گئی جن کے کندھوں پر سوار ہوکر عمران خان آئے تھے ، اب جو اسٹیبلشمنٹ ہے وہ نیوٹرل بھی ہے اور اسے احساس کا کہ پاکستان کس قسم کے نقصان سے دوچار ہے۔
مریم نواز نے مزید الزام لگایا کہ اب وہ (عمران خان) عدلیہ کے کندھوں پر سوار ہونے کی تیاری کررہا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں مریم نواز کا کہنا تھا کہ عمران خان کو ابھی سہولت کاری مل رہی ہے، پچھلی اسٹیبلشمنٹ کی باقیات عمران خان کی سہولت کاری ہورہی ہے ، اس کی وجہ یہ ہے ان کے مفادات سانجھے ہیں۔ مریم نواز کا کہنا تھا کہ جوڈیشری میں بہت اچھے اچھے نام بھی ہیں ، بہت عزت والے ججز بھی ہیں ، لیکن ان میں کچھ باقیات جنرل فیض کی ابھی بھی ہیں، جن کے ذریعے وہ اپنا کام چلاتے تھے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فوج ایک یونیٹی کمانڈ پر چلتی ہے ، اگر مریم نواز صاحبہ کا کہنا ہے کہ جنرل (ر) فیض حمید کی فوج میں آج بھی چلتی ہے تو اس کا مطلب واضح ہے آرمی چیف سید عاصم منیر کو انہوں نے سائیڈ لائن کردیا ہے ، یعنی آرمی چیف کی فوج میں نہیں چلتی ہے۔
اینکر پرسن سلیم صافی نے سوال اٹھایا کہ جو روش شوکت ترین اور اسد عمر نے اپنائی تھی ، یہ ہمیں مفتاح اسماعیل نے بھی ہمیں بتایا ، کیا آپ لوگ نہیں سجھتے کہ ڈار صاحب نے آکر اسی سنت شوکت ترین کو تازہ کیا ، ڈار صاحب لانا اور مفتاح اسماعیل کو ہٹانا کیا غلطی نہیں تھی؟
کيا ڈار صاحب کو لانا اور مفتاح اسماعيل کو ہٹانا غلطی نہيں تھی؟ ديکھئے مريم نواز کا جواب
مکمل پروگرام ديکھئے: https://t.co/yYISQwGOLi@MaryamNSharif @SaleemKhanSafi pic.twitter.com/SdpwutEKTM
— Geo News Urdu (@geonews_urdu) February 18, 2023
سوال گندم جواب چنا دیتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ شوکت ترین تو بےدردی سے قیمتیں بھی بڑھاتے تھے اور معاہدے بھی انہوں نے ہی کیے تھے۔ اگر کوئی کوشش کرتا ہے جس کا الزام ڈار صاحب پر آتا ہے کہ وہ قیمتیں نہیں بڑھانا چاہتے ، اگر ڈار صاحب قیمتیں نہیں بڑھانا چاہتے تو کیا یہ الزام ہے یہ تو کریڈٹ کی بات ہے ، وہ کیوں قیمتیں نہیں بڑھانا چاہتے کیونکہ ان کے دل میں عوام کا درد ہے۔ اور جو اب قیمتیں بڑھائی جارہی ہیں وہ بھی اس ملک کی بہتری کے لیے ہے تاکہ یہ ملک ڈیفالٹ نہ کرے۔
مریم نواز کے جواب پر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سلیم صافی کے سوال کا سب سے بڑا حصہ مفتاح اسماعیل کو ہٹانے سے متعلق تھا ، مگر جواب میں مریم نواز صاحبہ نے مفتاح اسماعیل صاحب کو کریڈٹ دینا تو دور کی بات ذکر کرنا بھی گوارا نہیں کیا۔ اس کی دو وجوہات ہوسکتی ہیں کہ یا تو مریم صاحبہ کو مفتاح اسماعیل پسند نہیں ہیں یا پھر ان کے والد صاحب کی اسحاق ڈار سے رشتے داری آڑے آرہی ہے کہ وہ گندی کارکردگی کے باوجود ڈار صاحب کی تعریفیں کررہی ہیں۔









