اسحاق ڈار نے مفتاح اسماعیل اور خواجہ آصف کو ملک دشمن قرار دیا؟

پاکستان مخالف عناصر بدنیتی پر مبنی افواہیں پھیلا رہے ہیں کہ پاکستان ڈیفالٹ ہو سکتا ہے۔ یہ نہ صرف سراسر جھوٹ ہے بلکہ حقائق کو بھی جھٹلارہا ہے، وزیر خزانہ کے دعوے کے برعکس ان کی پارٹی کے رہنما بھی ڈیفالٹ کے اعلانات کرچکے

وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے گزشتہ  روز ڈیفالٹ کے خدشات ظاہر کرنے والوں کو پاکستان مخالف قرار دیا تھا تاہم  وہ بھول گئے کہ ملک کے ڈیفالٹ ہونے کا دعویٰ کابینہ میں ان کے ساتھ بیٹھنے والے وزیردفاع اسحاق ڈار اور ان کے پیش رو مفتاح اسماعیل نے کی تھی۔

ناقدین نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا اسحاق ڈار اپنی جماعت کے موجودہ اور سابق وزرا کو ملک دشمن سمجھتے ہیں؟

یہ بھی پڑھیے

موڈیز نے 5 پاکستانی بینکوں کی ریٹنگ گراکر سی اے اے 3کردی ، آؤٹ لک مستحکم

وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے معاشی بدحالی کا ملبہ پی ٹی آئی حکومت پر ڈال دیا

وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے گزشتہ روز اپنے ٹوئٹ میں لکھاکہ  پاکستان مخالف عناصر بدنیتی پر مبنی افواہیں پھیلا رہے ہیں کہ پاکستان ڈیفالٹ ہو سکتا ہے۔ یہ نہ صرف سراسر جھوٹ ہے بلکہ حقائق کو بھی جھٹلارہا ہے۔

انہوں نےمزید کہا کہ  تمام بیرونی واجبات وقت پر ادا کرنے کے باوجود اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہو رہا ہے اور چار ہفتے پہلے کے مقابلے میں تقریباً ایک ارب  امریکی ڈالر زیادہ ہیں۔ غیر ملکی کمرشل بینکوں نے پاکستان کو سہولیات دینا شروع کر دی ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ ہمارے مذاکرات مکمل ہونے والے ہیں اور ہم اگلے ہفتے تک آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول کے معاہدے پر دستخط کرنے کی توقع رکھتے ہیں۔ تمام اقتصادی اشاریے آہستہ آہستہ درست سمت میں بڑھ رہے ہیں۔

یاد رہے کہ وزیردفاع خواجہ آصف نے گزشتہ دنوں سیالکوٹ میں تقریب سے خطاب کے دوران کہا تھا کہ ملک ڈیفالٹ کرچکا ہے جبکہ گزشتہ روز شاہزیب خانزادہ کے پروگرام میں سابق وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے دعویٰ کیا تھا کہ آئی ایم ایف کی قسط ملنے کے بعد بھی ملک کے ڈیفالٹ کرجانے کے خدشات برقرار رہیں گے۔

متعلقہ تحاریر