اپنی ہی جماعت پیپلز پارٹی میں خورشید شاہ کا گھیرا تنگ ہوگیا

ذرائع کا کہنا ہے کہ خورشید شاہ غیراعلانیہ طور پر نواز لیگ کا حصہ بن چکے ہیں جس بنا پر آصف زرداری نے انہیں پارٹی سے سائیڈ لائن کردیا ہے۔

اَن آفیشل (غیر اعلانیہ) طور پر آصف زرداری نے خورشید شاہ کو پارٹی سے سائیڈ کردیا ہے، سندھ سکریٹریٹ کے تمام افسران، سندھ بھر کی بیورو کریسی اور پارٹی کے تمام وزراء کو خورشید شاہ کے کام نہ کرنے کے لیے پابند بنا دیا ہے جہاں تک کہ انہیں خورشید شاہ کی فون بھی اٹینڈ نہ کرنے کے سختی سے احکامات جاری کئے ہوئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق خورشید شاہ پاکستان پیپلز پارٹی کا ایم این اے اور سینئر سیاستدان ہیں لیکن پی ڈی ایم اور پیپلز پارٹی کی مشترکہ حکومت میں خورشید شاہ کو واٹر اینڈ پاور کی وزارت بھی نواز لیگ کی کوٹا میں سے دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے 

اربوں ڈالرز کا نقصان؛ بھارتی ارب پتی شخصیات کے ستارے گردش میں آگئے

الیکشن وقت پر نہ ہوئے تو ہم نکلیں گے قوم کال کا انتظار کرے، عمران خان

ذرائع کے مطابق خورشید شاہ کو جیل سے آزاد کروانے اور ضمانت کروانے میں بھی نواز لیگ کا ہی کردار رہا ہے، خورشید شاہ ان آفیشل طور پر نواز لیگ کا حصہ بن چکا ہے، یہ ہی وجہ ہے کہ خورشید شاہ کو آصف زرداری نے پارٹی کے اہم مشاورتی کمیٹی سے سائیڈ کردیا ہے۔

باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ خورشید شاہ نے اپنی کمائی میں سے بلاول ہاؤس مناسب حصہ نہیں پہنچایا اس لیے بھی آصف زرداری اور فریال ٹالپر، خورشید شاہ سے ناراض ہیں۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ کچھ روز قبل سندھ ہائی کورٹ سکھر بینچ میں قائم الیکشن ٹربیونل نے خورشید شاہ کے خلاف پی ٹی آئی سندھ کے نائب صدر سید طاہر حسین شاہ کی پٹیشن پر نااہلی کیس میں فیصلہ محفوظ کر لیا ہے، کہا جا رہا ہے کہ آصف زرداری خورشید شاہ کو نااہل کرانا چاہتے ہیں، ہوسکتا ہے کہ آصف زرداری اس چال میں بھی کامیاب ہوجائے کیونکہ وہ سیاسی شطرنج کے منجھے ہوئے کھلاڑی ہیں۔

متعلقہ تحاریر