سینیٹر رضا ربانی نے سپریم کورٹ کیخلاف قرارداد کی منظوری پر چپ سادھ لی

دنیا نیوز کے رپورٹر فہد شہبازخان سینیٹر رضاربانی کو ان ماضی کا آئین پر عملدرآمد سے متعلق اصولی موقف یاد دلاتے رہ گئے، سابق چیئرمین سینیٹ جواب دیے بغیر روانہ ہوگئے

پاکستان پیپلزپارٹی کے سینیٹر رضاربانی قومی اسمبلی سے سپریم کورٹ  کے فیصلے کیخلاف قرارداد کی منظوری پر ردعمل سے گریز کرتے ہوئے پارلیمنٹ ہاؤس سے روانہ ہوگئے۔

دنیا نیوز کے رپورٹر فہد شہبازخان سینیٹر رضاربانی کو ان ماضی کا آئین پر عملدرآمد سے متعلق اصولی موقف یاد دلاتے رہ گئے۔

یہ بھی پڑھیے

خزانہ خالی مگر وکلاء کیلئے سوئمنگ پول اور 72 ہزار حجاج کرام کو سبسڈی دینے کے اعلانات

مجسٹریٹ منظور احمد نے عمران خان پر بغاوت کا مقدمہ درج کروادیا

گزشتہ روز سینیٹر رضا ربانی پارلیمنٹ ہاؤس سے نکلنے کیلیے راہداری میں آئے تو دنیا نیوز کے رپورٹر فہد شہباز خان کا ان سے آمنا سامنا ہوگیا۔ رپورٹر نے سینیٹر رضا ربانی سے قومی اسمبلی میں سپریم کورٹ کے پنجاب میں الیکشن سے متعلق فیصلے کے خلاف مذمتی قرار منظور ہونے پران کا موقف جاننا چاہا تو سینئر پارلیمنٹیرین اور سابق چیئر مین سینیٹ کنی کتراتے ہوئے آگے بڑھ گئے۔

رپورٹر نے رضا ربانی سے کہاکہ جب آپ چیئرمین سینیٹ تھے توبڑے لیٹر لکھا کرتے تھے، کیا ملک میں 90 روز میں الیکشن نہیں ہونے چاہیے؟فہد شہباز خان سینیٹر رضا ربانی سے مسلسل سولات پوچھتے رہے ہیں لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا اورایک موقع پر انہوں نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب مجھےبولنا ہو میں اس وقت بولتا ہوں ،اس طرح آپ کے کہنے پر کچھ نہیں بولوں گا، اور ساتھی ہی وہ  اپنی گاڑی بیٹھ کر روانہ ہوگئے۔

رپورٹر نے گاڑی میں بیٹھے کے دوران بھی رضا ربانی سے کہاکہ  آپ مشورہ نہیں دیتے پارٹی کو کہ آئین کے مطابق 90 دن میں الیکشن کروائیں؟ آپ جیسے نظریاتی لوگ بھی نہ بولے تو۔۔۔ رضا ربانی رپورٹر کی بات سنے بغیر پارلیمنٹ ہاؤس سے روانہ ہوگئے۔

متعلقہ تحاریر