انتخابات سے قبل تمام سیاسی قوتیں پنجاب کے میدان میں ، میاں نواز شریف خاموش تماشائی

آصف علی زرداری ، جہانگیر ترین اور چوہدری شجاعت نے پنجاب میں سیاسی جوڑ توڑ شروع کردیا ہے جبکہ مسلم لیگ ن کی قیادت خواب خرگوش کے مزے لی رہی ہے۔

ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال میں اس وقت تین دھڑے سب سے زیادہ متحریک ہیں ، پاکستان مسلم لیگ (ق) ، پاکستان پیپلز پارٹی اور جہانگیر ترین گروپ۔ اول الذکر تینوں گروپ پنجاب کو اپنی سیاسی قلعہ بنانے کے لیے سر دھڑ بازی لگانے کو تیار ہیں۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ن لیگ اپنی طبی عمر پوری کرچکی ہے ؟ اگر نہیں تو میاں نواز شریف کو مسلم لیگ (ن) اور پنجاب بچانے کےلیے واپس آنا پڑے گا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے کوچیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری چارٹرڈ طیارے کے ذریعے دبئی سے لاہور پہنچ گئے۔ وہ کچھ روز لاہور میں قیام کریں گے جہاں وہ جنوبی پنجاب اور دیگر علاقوں کے سرکردہ سیاست دانوں  سے ملاقاتیں کریں گے۔

سابق صدر آصف علی زرداری اپنے دورے کے دوران پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین سے بھی ملاقات کریں گے۔

تبصرہ

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بہت ممکن ہے کہ چوہدری شجاعت حسین سے ملاقات کے دوران آصف علی زرداری آئندہ انتخابات میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے حوالے سے بات چیت کریں ، کیونکہ چوہدری شجاعت گروپ اس پنجاب کی سیاست کا سب سے متحرک دھڑا ہے۔

تاہم تجزیہ کاروں  کا یہ بھی کہنا ہے کہ قومی اسمبلی میں اتحادی ہونے کے باوجود ایک بات بڑی واضح ہے کہ ن لیگ اور پیپلز  پارٹی میں آئندہ کے انتخابات میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ ممکن دکھائی نہیں دے رہی کیونکہ پارٹیاں نظریات کے حوالے سے بالکل مختلف موقف رکھتی ہیں۔

میڈیا رپورٹس

متعدد میڈیا چینلز اس بات کو رپورٹ کررہے ہیں کہ جنوبی پنجاب کے سیاست میں بہت بڑے برے نام کسی بھی وقت پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان کرسکتے ہیں۔ پی ٹی آئی چھوڑ کر جانے والے  متعدد رہنماؤں کی آصف علی زرداری سے ملاقات طے ہے۔

ذرائع کے مطابق آصف علی زرادری کے ساتھ ملاقات کے بعد ایک تقریب کے دوران وسطی اور جنوبی پنجاب کی مختلف سیاسی شخصیات پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان کرسکتی ہیں۔

تجزیہ

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر پیپلز پارٹی اگلے الیکشن میں بڑی کامیابی چاہتی ہے تو اسے صوبہ پنجاب میں اپنی حمایت بڑھانا ہو گی۔ اور جب پنجاب کی بات کی جائے تو جنوبی پنجاب کے سیاست دان سب سے پہلے ذہن میں آتے ہیں۔ یہ وہ افراد ہیں جو پارٹی کے ووٹ بینک پر زیادہ انحصار نہیں کرتے بلکہ اکثر شخصیت اور خاندان کی بنیاد پر الیکشن جیت جاتے ہیں۔

جہانگیر ترین پریشر گروپ نہیں نئی پارٹی بنانے جارہے ہیں

دوسری جانب جہانگیر ترین گروپ ایک دم سے سیاست میں دوبارہ متحرک ہو گیا ہے۔ جہانگیر ترین نے ملکی سیاست میں فعال کرد ادا کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

دو روز قبل جہانگیر ترین اور پاکستان تحریک انصاف کے سابق رہنما علیم خان کے درمیان ایک طویل ملاقات ہوئی ، جس میں پی ٹی آئی چھوڑ کر آنے والے اور سابق منحرف رہنما بھی موجود تھے۔ ملاقات میں جلد نئی سیاسی پارٹی بنانے پر اتفاق کیا گیا۔

جہانگیر ترین نے سیاست رہنماؤں کے اعزاز میں ظہرانہ دیا۔ ظہرانے میں وزیراعظم شہباز شریف کے معاون خصوصی عون چوہدری ، سابق صوبائی وزیر سعید اکبر نوانی ، سینئر رہنما اسحاق خاکوانی ، سابق ایم پی اے شعیب صدیقی سمیت دیگر سرکردہ رہنما شامل تھے۔

ظہرانے میں  اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پریشر گروپ بنانے کی بجائے نئی سیاسی پارٹی تشکیل دی جائے گی تاکہ ملکی سیاست میں فعال کرد ادا کیا جاسکے۔

گذشتہ روز جہانگیر ترین سے پاکستان تحریک انصاف چھوڑنے سابق ایم پی ایز اور ایم این ایز نے ملاقات کی۔ ملاقات میں سیاسی صورتحال اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

مسلم لیگ  (ق) سیاست میں متحریک

ادھر  پاکستان مسلم لیگ (ق) ایک مرتبہ پھر سے سیاست میں متحرک ہو گئی ہے۔ ق لیگ کو جوائن کرنے سابق گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور پارٹی کو متحرک کرنے کے لیے دن رات ایک کررہے ہیں۔ پنجاب ہی نہیں پاکستان کی  سطح پر سیاسی رہنماؤں سے ملاقاتیں جاری ہیں۔ پی ٹی آئی چھوڑ کر جانے والے متعدد رہنماؤں نے ان سے ملاقات کے بعد مسلم لیگ (ق) میں شمولیت کا اعلان کردیا ہے۔

مسلم لیگ (ق) کے سینئر رہنما چوہدری محمد سرور چوہدری شجاعت حسین کی ہدایات پر جنوبی پنجاب کے رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں کررہے ہیں۔

متعلقہ تحاریر