ووٹ کا حق مل گیا تو اگلا الیکشن سمندر پار پاکستانیوں کا ہو گا، احمد بلال محبوب

قومی اسمبلی کے 272 میں سے 101 سے 145 حلقوں میں سمندر پارپاکستانیوں کے  ووٹس 2018 کے عام انتخابات کے جیت کے تناسب سے زیادہ ہیں،سربراہ پلڈاٹ

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈیولپمنٹ اینڈ ٹرانسپرنسی(پلڈاٹ) کے سربراہ احمد بلال محبوب نے سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق ملنے کی صورت میں انتخابی نتائج کی پیش گوئی کرکے اپوزیشن جماعتوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجادی۔

پلڈاٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب نے دعویٰ کیا ہے کہ ووٹنگ کے بروقت انتظامات ہوگئے تو اگلا الیکشن سمندر پاکستانیوں کا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیے

اوورسیز پاکستانیوں نے الیکشن کمیشن سے ووٹ کا حق مانگ لیا

اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ دینے کا حق، شہباز شریف 2013میں کچھ 2021میں کچھ

احمد بلال محبوب نے گزشتہ روز اپنے ٹوئٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ اگر سمندر پار پاکستانیوں کے ووٹ ڈالنے کے انتظامات بروقت مکمل کرلیے گئے تو اگلے الیکشن میں فیصلہ کن ووٹ سمندر پاکستان کا ہوگا۔

احمد بلال محبوب نے مزید لکھا کہ قومی اسمبلی کے  کل 272 میں سے 101 سے 145 حلقوں میں سمندر پارپاکستانیوں کے  ووٹس 2018 کے عام انتخابات کے جیت کے تناسب سے زیادہ ہیں جس کا مطلب ہے کہ وہاں سمندر پارپاکستانیوں کا  ووٹ فیصلہ کن ہوگا۔ کیا سیاسی جماعتیں سن رہی ہیں؟

واضح رہے کہ  گزشتہ برس مئی میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے آئین کے آرٹیکل 89 کے تحت الیکشن ترمیمی آرڈیننس جاری کیا تھا  جس کے تحت  بیرون ملک مقیم پاکستانی ووٹ ڈالنے کے حق دار قرار پائے تھے۔

اس آرڈیننس میں الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن (1) 94 اور سیکشن 103 میں ترمیم کی گئی۔ سیکشن (1) 94 کے تحت سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ كا حق دیا گیا۔

الیکشن کمیشن نادرا یا کسی اور اتھارٹی یا ایجنسی کی تکنیکی معاونت سے عام انتخابات میں سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ ڈالنے کے قابل بنائے گا۔سیکشن 103 کے تحت الیکشن کمیشن عام انتخابات میں ووٹ ڈالنے کیلئے الیکٹرونک ووٹنگ مشینیں خریدنے کا بھی پابند ہوگا۔

آرڈیننس سے اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کی سہولت، الیکٹرونک ووٹنگ اور بائیومیٹرک تصدیقی مشینوں کیلئے پائلٹ منصوبوں کے متعلق شقوں کو بدلا گیا۔خیال کیا جارہا ہے کہ سمندر پار پاکستانیوں کی  جانب سے ووٹ ڈالنے کا سب سے زیادہ فائدہ حکمراں جماعت تحریک انصاف کو پہنچے گا۔

متعلقہ تحاریر