میری مارچ کی ڈیڈ لائن قریب آرہی ہے ، عمران خان کا حکومت کو انتباہ

چیئرمین تحریک انصاف نے کہا ہے کہ موجودہ حکمران اپنے کرپشن کے کیسز ختم کرانے کے لیے اقتدار میں آئے تھے ، ابھی پتا چلا ہے کہ رمضان شوگر ملز کا کیس بھی بند کیا جا رہا ہے۔"

چیئرمین تحریک انصاف اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ تبدیلی ووٹ کے ذریعے آنے دیں ورنہ امپورٹڈ حکومت لانے والوں کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

چارسدہ میں پاکستان تحریک انصاف کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ میں ‘امپورٹڈ حکومت اور اس کے حامیوں’ کو متنبہ کرتا ہوں کہ وہ قبل از وقت اور شفاف انتخابات کرائیں تاکہ تبدیلی ووٹ کی طاقت سے آئے۔

یہ بھی پڑھیے

پیپلزپارٹی اور نون لیگی رہنماؤں کے خلاف 50 نیب کیسز بند کردیئے گئے

انہوں نے کہا میں خبردار کرتا ہوں کہ اگر انتخابات میں تاخیر ہوئی تو حالات قابو سے باہر ہو جائیں گے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ اگر آپ نے’پرامن انقلاب‘ کو روکنے کی کوشش کی تو جیسا کہ ورلڈ بینک نے پیش گوئی کی ہے کہ کھیل سب کے ہاتھ سے نکل جائے گا۔ تبدیلی صرف ووٹ کے ذریعے آنے دیں۔

اتحادی حکومت اور ان کی حمایتوں کو مخاطب کرتے ہوئے چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ "آپ کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آپ یہ میچ نہیں جیت سکتے کیونکہ آپ یہ میچ پہلے ہی ہار چکے ہیں۔ معیشت آپ سے سنبھل نہیں رہی۔ عالمی آپ کو سیلاب زدگان کی امداد کے لیے مالی معاونت فراہم نہیں کررہے ۔

پی ٹی آئی کے چیئرمین نے کہا کہ اب بھی وقت ہے کہ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کر کے ملک کو دلدل سے نکالا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ "وہ وقت دور نہیں جب وہ قوم کو حقیقی آزادی کے حصول کی کال دی جائے گی”۔

آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے عمران نے دعویٰ کیا کہ موجودہ حکمران ملک تنزلی کی طرف لے جارہے ہیں۔ پاکستان سری لنکا بننے جا رہا ہے۔ میری حکومت کو گرانے کے ذمہ داروں کو معاف نہیں کیا جائے گا۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ سندھ سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے لیکن زرداری کی وجہ سے عالمی برادری مدد کرنے کو تیار نہیں۔

موجودہ حکومت کے ساتھ اپنے دور کا موازنہ کرتے ہوئے عمران نے کہا کہ ایندھن اور بجلی سمیت ہر چیز کی قیمتیں سر سے گزر چکی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے دور میں پیٹرول 150 روپے فی لیٹر تھا اس وقت خام تیل کی قیمت 95 سے 110 ڈالر فی بیرل تھی لیکن آج عالمی قیمتوں میں کمی کے باوجود ملک میں پیٹرول مہنگا ہے۔

دہشتگردوں کے حملوں میں اضافے کے بارے میں بات کرتے ہوئے عمران خان نے وفاقی حکومت پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داری پوری کرے اور صوبے کے ضلع مالاکنڈ میں امن و امان بحال کرے۔

پی ڈی ایم کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ لوگ اپنی کرپشن کے کیسز ختم کرانے کے لیے اقتدار میں آئے تھے ، ابھی پتا چلا ہے کہ رمضان شوگر ملز کا کیس بھی بند کیا جا رہا ہے۔”

سابق وزیراعظم نے دعویٰ کیا کہ منی لانڈرنگ کیس کے گواہ دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئے، لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ انہیں قتل کیا گیا، اور یہ بات شفاف تحقیقات کے بعد سامنے آئی گی۔

عمران نے کہا کہ جب سے مسلم لیگ (ن) کی مخلوط حکومت آئی ہے روپیہ اپنی قدروں کا 30 فیصد کھو چکا ہے۔

قوم سے آف شور اثاثے رکھنے والے لیڈر کو ووٹ نہ دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے عمران نے کہا کہ اگر وہ دوبارہ اقتدار میں آئے تو کسی کو نہیں چھوڑیں گے، انہوں نے مزید کہا کہ جن کی دولت بیرون ملک چھپی ہوئی ہے انہیں اپنی حکومت میں وزیر نہیں بنایا جائے گا۔

عمران نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ میں شامل ہونے سے ان کی پارٹی کے زیر انتظام صوبے نے سب سے زیادہ نقصان اٹھایا اور مزید کہا کہ پاکستان کو "کسی سپر پاور کی غلامی” کے تحت کسی تنازع میں حصہ نہیں لینا چاہیے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ موجودہ حکمرانوں کو ایک ’سازش‘ کے ذریعے ملک پر مسلط کیا گیا ، کیونکہ ’امریکہ چاہتا تھا کہ ہمارے حکمران بھکاریوں کی طرح دنیا بھر میں گھومتے پھریں ، لیکن ہم کسی بھی ملک کے لیے اپنے ملک کی خارجہ پالیسی پر سمجھوتہ نہیں کریں گے‘۔

متعلقہ تحاریر