عمران خان نے وزیراعظم شہباز شریف کو حلف کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیدیا

کرائم منسٹر کا سزا یافتہ نواز شریف کے ساتھ چیف  آف آرمی اسٹاف  کی  تقرری اوردیگر  ریاستی معاملات پر بات کرنا نہ صرف آفیشل سیکرٹ ایکٹ (سیکشن 5) بلکہ ان کے حلف کی بھی  خلاف ورزی ہے، عمران خان: پی ٹی آئی کا وزیراعظم سمیت حکومتی شخصیات کیخلاف مقدمہ درج کرانے کا فیصلہ

 سابق وزیراعظم  عمران خان نے وزیر اعظم شہباز شریف پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے نئے آرمی چیف کی تقرری اور دیگر ریاستی امور سے متعلق اہم فیصلوں  کیلیے لندن میں سزا یافتہ نواز شریف، اسحاق ڈار اور دیگر سے مشاورت کرکے اپنے  حلف اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کی ہے۔

تحریک انصاف نے وزیراعظم شہبازشریف سمیت حکومتی شخصیات  کیخلاف  حلف کی پاسداری نہ کرنے اور  آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے پر مقدمات درج کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

مولانا فضل الرحمان کس حیثیت میں سرکاری ہیلی کاپٹر کا استعمال کررہے ہیں ؟

سی سی پی او لاہور کا معاملہ: وفاق اور پنجاب حکومت میں ٹھن گئی

عمران خان نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں پرائم منسٹر کو کرائم منسٹر مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ کرائم منسٹر کا سزا یافتہ نواز شریف کے ساتھ چیف  آف آرمی اسٹاف  کی  تقرری اوردیگر  ریاستی معاملات پر بات کرنا اور وزیروں کا یہ اعلان کرنا کہ وہ نواز شریف سے مشاورت کے بعد چیف آف آرمی اسٹاف تعینات کریں گے،  یہ سب کچھ نہ صرف آفیشل سیکرٹ ایکٹ (سیکشن 5) بلکہ ان کے حلف کی بھی  خلاف ورزی ہے ۔

اے آر وائی نیوز کی جانب سے شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق  پی ٹی آئی نے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی مبینہ خلاف ورزیوں پر اعلیٰ حکومتی شخصیات کے خلاف مقدمات درج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پی ٹی آئی رہنماؤں نے وزیر اعظم شہباز شریف کی اشتہاری نواز شریف اور اسحاق ڈار سے لندن میں ملاقات کو وزیر اعظم کے حلف اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی قرار دیا۔

فواد چوہدری نے گزشتہ روز میڈیا ک کوبتایا کہ  عمران خان نے   لیگل ٹیم کے اہم اجلاس کی صدارت کی۔ شہباز شریف کی لندن میں ملاقاتیں آئین و قانون کی خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف اور اسحاق ڈار مفرور ہیں۔

فواد چوہدری نے کہا کہ جن لوگوں نے مفرور افراد سے اہم تقرریوں کے حوالے سے میٹنگز اور مشاورت کی ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہاں تک کہ کابینہ کے ارکان نے بھی نواز شریف سے اہم تقرری کے حوالے سے مشاورت کی تصدیق کی ہے۔‘‘

پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت کی جانب سے کیس عدالت میں رکھا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ پی ٹی آئی کارکنوں کو دھمکی آمیز فون کال کا ڈیٹا مرتب کر رہے ہیں اور ہراساں کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ عدالت آئینی خلاف ورزیوں سے متعلق مقدمات کی جلد سماعت کرے گی۔

متعلقہ تحاریر