پی پی پی کا سینیٹر منتخب کروانے کے بعد ایم کیو ایم کی سیاست پھر بند گلی میں چلے گئی

پاکستان پیپلز پارٹی نے سینیٹ کی نشست پر اپنے امیدوار وقار مہدی کو ایم کیو ایم کے تعاون سے منتخب کروا لیا ہے اور ایم کیو ایم پاکستان کی سیاست کو ایک مرتبہ پھر سے بند گلی میں دھکیل دیا ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم پ) کی سیاست ایک مرتبہ پھر گہرے گرداب میں پھنس گئی ہے ، پاکستان پیپلز پارٹی نے کراچی میں ایم کیو ایم کا ایڈمنسٹریٹر لگانے کے وعدے پر سینیٹ کی خالی نشست پر اپنا امیدوار کامیاب کروالیا ہے تاہم ابھی تک پی پی پی نے اپنا وعدہ وفا نہیں کیا ہے ، جبکہ دوسری جانب ایم کیو ایم پاکستان بانی متحدہ کے کراچی میں بڑھتے ہوئے اثرورسوخ سے خائف ہے۔

سندھ کی حکمران جماعت پیپلز پارٹی نے اپنے سینیٹ کے امیدوار وقار مہدی کی حمایت حاصل کرنے کے بعد ایم کیو ایم پاکستان کو ایک مرتبہ پھر سے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا ہے ، اور کراچی میں ایم کیو ایم کا ایڈمنسٹریٹر فوری طور پر لگانے میں ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے۔

یہ  بھی پڑھیے

وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الہیٰ طاقتور حلقوں کے پیغامات عمران خان کو پہنچانے لگے

صوبائی اسمبلیوں کی تحلیل ، عمران خان کا دسمبر کی ڈیڈلائن میں توسیع سے انکار

یاد رہے کہ ہفتے کے روز متحدہ قومی موومنٹ نے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے ساتھ ہونے والی ملاقات کے بعد سینیٹ کی نشست کے لیے اپنے امیدوار کو دستبردار کروالیا تھا ، جس کے بعد پی پی کے امیدوار وقار مہدی بلا مقابلہ سینیٹر منتخب ہو گئے تھے۔

سینیٹ کے امیدوار کی دستبرداری کے بدلے میں پی پی پی نے ایم کیو ایم پی کے رہنما کو کراچی کا ایڈمنسٹریٹر مقرر کرنے کا وعدہ کیا تھا جوکہ ابھی وفا نہیں ہوا ہے۔

نیوز 360 کے ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی نے ایم کیو ایم پی سے کراچی ایڈمنسٹریٹر کے لیے ناموں کی فہرست طلب کرلی ہے تاکہ سندھ کی حکمران جماعت اپنے پسندیدہ شخص کو ایڈمنسٹریٹر کراچی لگا سکیں، دوسری جانب ایم کیو ایم پی اپنی سفارش کے مطابق غیر مشروط طور پر تقرری پر اصرار کر رہی تھی۔

مزید یہ کہ پیپلز پارٹی کراچی کے ایڈمنسٹریٹر کی تقرری کو حتمی شکل دینے کے لیے کوئی ٹائم فریم بھی نہیں دے رہی۔

وسیم اختر نے پے در پے ناکامیوں کے بعد ایم کیو ایم پی کے اندر ابہام کا پردہ فاش کر دیا۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پیپلز پارٹی نے سیاسی معاہدے کے باوجود ایم کیو ایم پی کے گورنر سندھ کی تقرری کو حتمی شکل دینے میں مہینوں کا عرصہ لگا دیا تھا۔ پیپلز پارٹی نے کافی غور و خوض کے بعد نسرین جلیل کی تقرری کو مسترد کر دیا اور بعد میں کامران ٹیسوری کو گورنر سندھ مقرر کر دیا۔

یاد رہے کہ چند روز قبل سندھ کی حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور قومی اسمبلی میں ان کی اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم-پی) کے درمیان بلدیاتی انتخابات سے قبل سیاسی سمجھوتہ طے پا گیا تھا۔

پی پی پی اور ایم کیو ایم پی کے درمیان سیاسی سمجھوتے کے تحت 8 دسمبر کو ہونے والے سینیٹ انتخابات میں ایم کیو ایم پی کے امیدوار کی دستبرداری اور بلدیاتی انتخابات سے قبل ایم کیو ایم پی کے رہنما کو کراچی کا ایڈمنسٹریٹر مقرر کرنا بھی شامل تھا۔

یہ فیصلے وزیر اعلیٰ سندھ اور ایم کیو ایم پی کے بہادر آباد ہیڈ کوارٹرز میں ہونے والے دو الگ الگ اجلاسوں میں کیے گئے تھے۔

یہ مذاکرات پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی ہدایت پر ہوئے تھے ، آصف علی زرداری نے وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو پابند کیا تھا کہ وہ ایم کیو ایم پاکستان کے تمام تحفظات کو دور کریں۔

متعلقہ تحاریر