تین لوگوں نے مذہب کے نام پر مجھے سلمان تاثیر کی طرح قتل کرانے کی سازش کی، عمران خان

چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا ہے کانٹے لگا کر سیاستدانوں کو ختم نہیں کیا جاسکتا ، نواب اکبر بگٹی پر کانٹا لگایا تھا اور آج تک بلوچستان کے حالات ٹھیک نہیں ہوئے۔

چیئرمین تحریک انصاف سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہم امید کر رہے تھے کہ جنرل (ر) باجوہ کے بعد فوج نیوٹرل ہوگی،  لیکن بدقسمتی سے ابھی نیوٹرل نہیں، مسٹر ایکس، مسٹر وائے نے ہمارے ایم پی ایز کو دھمکیاں دیں، ہمارے ایم پی ایز کو کہا گیا عمران پر کانٹا ڈال دیا گیا ہے، نواب اکبر بگٹی پر کانٹا لگایا تھا اور آج تک بلوچستان کے حالات ٹھیک نہیں ہوئے، سیاسی لیڈروں کو کانٹے لگا کر ختم نہیں کیا جا سکتا، ایسے واقعات سے سیاسی لیڈر ختم نہیں ملک کو نقصان ہوتا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے مختلف وفود سے ملاقات کے دوران کیا۔ ان کا کہنا تھا نئے آرمی چیف سے میری کوئی بات چیت نہیں ہوئی، اسٹیبلشمنٹ ایک حقیقت ہے جو سب سے زیادہ منظم ہے، کورونا، پولیو، سیلاب، ٹڈی دل کے دوران فوج نے بہت زیادہ مدد کی، جنرل باجوہ کو ایکسٹینشن دینا میری سب سے بڑی غلطی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

ن لیگ میں مفتاح اسماعیل اور شاہد خاقان عباسی کی شکل میں بغاوت سر اٹھارہی ہے؟

نئی فوجی قیادت کے ساتھ کوئی ریلیشن شپ نہیں ، عمران خان

عمران خان کا کہنا تھا کہ ایکسٹینشن کے بعد جنرل (ر) باجوہ نے ان کو این آر او دیا تھا، این آر او دے کر ظلم کیا گیا، ہمیں پتا ہی نہیں تھا کہ حسین حقانی کو فارن آفس نے ہائر کیا ہے، اس نے امریکا میں میرے خلاف لابی اور باجوہ کو سپورٹ کرنا شروع کر دیا تھا۔

چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ یہ لوگ الیکشن نہیں آکشن کے ذریعے آتے ہیں، ان کے ساتھ سابق آرمی چیف ملا ہوا تھا، جنرل (ر) باجوہ کہتے تھے اکانومی پر توجہ دیں احتساب کو بھول جائیں، وہ ایکسٹینشن سے پہلے لوگوں کو ان کی چوری کا بتاتے تھے، یہ لوگ کرپٹ ہیں، جنرل (ر) باجوہ نے یوٹرن لیا پہلے انہیں چور کہا پھر انہی کو اوپر بٹھا دیا۔

تحریک انصاف کے سربراہ کا کہنا تھا کہ  نواز شریف کی رپورٹ دیکھ کر ہم سب گھبرا گئے تھے، آہستہ آہستہ ہمیں پتا چلا نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس غلط بنی، شہباز گل کی رپورٹ کو بھی تبدیل کیا گیا۔

سربراہ تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ عدالت نے الیکشن کمیشن سے توشہ خانہ کا ریکارڈ مانگا تو انہوں نے نہیں دیا، کراچی میں پولیس اور انتظامیہ دونوں دھاندلی میں ملوث ہیں، الیکشن کمیشن نے ہمارے خلاف کئی فیصلے کیے ہیں۔

سابق وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ کبھی اتنے برے حالات نہیں تھے جتنے آج ہیں، آج پارلیمنٹ فنکشنل نہیں ہے، جب ہم نے پارلیمنٹ جانے کا اعلان کیا تو یہ ڈر گئے، اپنی چوریاں بچانے کیلئے نیب، ایف آئی اے کو ختم کر دیا، ملک میں اگر صاف اور شفاف الیکشن کا راستہ نہیں اپنائیں گے تو حالات سنبھالنا مشکل ہو جائے گا، جو کچھ پی ڈی ایم نے 8 ماہ میں کر دیا کوئی دشمن بھی نہیں کر سکتا تھا۔

عمران خان کا کہنا تھا آج معاشی حالات دن بدن خراب ہو رہے ہیں، 8لاکھ پڑھے لکھے نوجوان ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں، اس تباہی کو روکنے کیلئے شفاف الیکشن کرائے جائیں ، ان کو میرا خوف ہے کہیں عمران خان اقتدار میں نہ آجائے، میرے خوف کی وجہ سے الیکشن نہیں کرا رہے۔

ان کا کہنا تھا مجھے ڈر ہے سری لنکا والے حالات نہ شروع ہو جائیں، آج ملک میں بہت زیادہ مایوسی ہے، کراچی پورٹ پر کینٹینرز کھڑے ہیں پاکستان ڈوب رہا ہے، ملک میں شفاف الیکشن سے ہی استحکام آسکتا ہے، نئے مینڈیٹ والی حکومت وہ ریفارمز کرے جو پہلے کبھی نہیں ہوئیں، اقتدار میں آئے تو سب سے پہلے رول آف لاء قائم کریں گے، انشاء اللہ ٹھیک ہو کر سندھ کے اندر جانا ہے، سب سے زیادہ سندھ کو لوٹا جا رہا ہے۔

چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے کہا کہ پیپلز پارٹی والے سندھ کو بے شرمی سے لوٹ رہے ہیں، سندھ کی عوام سب سے زیادہ مظلوم ہے، کراچی کے لوگ سب سے زیادہ شعور والے ہیں ، ان کی کرپشن نے کراچی کو کھنڈر بنا دیا ہے، کراچی کے لوگ پیپلز پارٹی سے نفرت کرتے ہیں، کراچی میں 3 کروڑ روپے ایک بلڈنگ کی منظوری کیلئے لیا جاتا ہے، کراچی والے کیسے پیپلز پارٹی کو ووٹ دے سکتے ہیں، کراچی میں الیکشن نہیں مذاق ہوا ہے، یہ الیکشن کمشن ختم کر دینا چاہیے۔

چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا تھا بلدیاتی الیکشن میں دھاندلی کی گئی اور الیکشن کمیشن سو رہا ہے، پولیس، انتظامیہ، الیکشن کمیشن سب دھاندلی میں ملوث ہیں، ڈسکہ میں 25 پولنگ سٹیشن پر مسئلہ ہوا تو الیکشن کمیشن نے پورا الیکشن کرا دیا تھا، تمام جماعتوں نے کہا بلدیاتی الیکشن میں دھاندلی ہوئی، الیکشن کمیشن کنٹرولڈ ہے، اگر اس طرح کے الیکشن کرانے ہیں تو بہتر ہے نہ کرائے جائیں، الیکشن کمیشن نے صرف تحریک انصاف کے خلاف فیصلے دیئے۔

ان کا کہنا تھا  توشہ خانہ کیس میں عدالت نے جب تمام تفصیلات مانگی تو کہا گیا یہ سیکرٹ ہے، میں نے اپنی گھڑی بیچی، حکومت، ہنڈلرز نے اتنا شور مچا دیا، گھڑی کیس میں کھودا پہاڑ نکلا چوہا، تحریک انصاف نے چالیس ہزار ڈونرز کا ڈیٹا دیا، پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) کی فنڈنگ کیس کو سنا ہی نہیں جا رہا۔

عمران خان کا کہنا تھا لانگ مارچ میں مجھے ان کی سازش کا پہلے ہی پتا تھا، 3 لوگوں نے مل کر پلان کیا تھا، میرے خلاف توہین مذہب کے حوالے اشتہار چلائے گئے، مجھے پتا چل گیا تھا انہوں نے سلمان تاثیر والا قتل کرانا ہے، ان کے پریشر ڈالنے سے اب یقین ہو گیا یہی لوگ ملوث تھے، جے آئی ٹی کے ممبران نے اپنے بیانات تبدیل کر لیے۔

متعلقہ تحاریر