خواتین پر بے جا پابندیاں؛  اقوام متحدہ کی افغانستان سے نکلنے کی تیاریاں

افغانستان میں اقوام متحدہ کے زیرِ ملازمت 3 ہزار 300 افغان ہیں جن میں سے 2 ہزار 700 مرد جبکہ 600 خواتین شامل ہیں تاہم طالبان نے خواتین پر کام کرنے کی پابندی عائد کردی ہے

اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کے سربراہ ایکم ستائنر افغانستان سے انخلاء کرنے پر مجبور ہوگئے۔ ایڈمنسٹریٹر یو این ڈی پی کہا ہے کہ افسوسناک فیصلہ لینے کے لیے تیار ہیں۔

اقوام متحدہ افغانستان سے انخلاء کا افسوسناک فیصلہ کرنے پر تیار ہوگیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگر طالبان کو مقامی خواتین کو کام کی اجازت دینے کے لیے قائل نہیں کیا جا سکتا ہے تو وہ مئی میں وہاں سے چلے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیے

سابق گورنر مقبوضہ کشمیر ستیہ پال نے پلوامہ حملے پر مودی کا پردہ فاش کردیا

افغانستان میں اقوام متحدہ کے زیرِ ملازمت 3 ہزار 300 افغان ہیں جن میں سے 2 ہزار 700 مرد جبکہ 600 خواتین شامل ہیں تاہم طالبان نے خواتین پر کام کرنے کی پابندی عائد کردی ہے ۔

یو این ڈی پی کے سربراہ کے مطابق اقوام متحدہ کے حکام نے طالبان رہنماؤں کے ساتھ بات چیت میں مہینوں گزارے تاکہ وہ اقوام متحدہ کی خواتین پر کام کی پابندی کے سخت گیر حکم نامے سے مستثنیٰ ہونے پر آمادہ کریں۔

اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے سربراہ نے کہا ہے کہ اگر ان کا ادارہ خواتین کے کام کے حوالے سے طالبان کو قائل نہ کر سکا تو اقوام متحدہ مئی میں افغانستان سے انخلا کا ’افسوسناک‘ فیصلہ لینے کے لیے تیار ہے۔

ایکم ستائنر نے کہا کہ طالبان نے افغان خواتین کو کچھ شعبوں میں کام کی اجازت دی ہے تاہم منگل کو جاری ہونے والی اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک کو مزید خواتین کے کام کی اشد ضرورت ہے۔

رواں ماہ کے آغاز میں افغانستان کی عبوری طالبان کے ایک حکم نامے کے تحت افغان خواتین کو اقوام متحدہ میں کام کرنے سے روک دیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

برطانوی بادشاہ چارلس کی رسم تاج پوشی کا دعوت نامہ منظر عام پر آگیا

طالبان نے اپنی پوزیشن تبدیل کرنے سے انکار کردیا ہے، جس کا اعلان دسمبر میں بظاہر ان کے جلاوطن رہنما، ہیبت اللہ اخوندزادہ کے حکم پر کیا گیا تھا۔

خواتین مقامی طور پر خدمات حاصل کرنے والی امدادی ایجنسی کے عملے کے تقریباً ایک تہائی ملازمین پر مشتمل ہیں اور انہیں کسی بھی امداد میں کمی کا سب سے زیادہ خطرہ سمجھا جاتا ہے۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا تھا کہ ’اقوام متحدہ کے لیے کام کرنے والی خواتین پر پابندی عائد کرنا ہمارے ملک کا ’اندرونی مسئلہ‘ ہے اور ہمارے فیصلوں کا احترام کیا جائے۔

متعلقہ تحاریر